votes were divided.
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳
"راس جوڑ دو تو یہ ہماری دوستی کا مستقل نشان ہوگا۔ چنانچہ مسعود کو راس مسعود کہا جانے لگا۔ دور جدید کی تاریخ میں صرف ایک ہی قابلِ ذکر مسلمان ہیں جنھوں نے حبِ مغرب کو اہمیت کو محسوس کیا اور مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ اور وہ سرسید ہیں۔ مگر سرسید عمر وپ کی پہنچ صرف مغرب کی تہذیبی تقلید تک ہوگی ، وہ مغرب کی سائنسی تقلید کی اہمیت کو نہ سمجھ سکے ۔ تا ہم پہلے شخص کی حیثیت سے سرسید کا گروہ قابلِ معافی ہو سکتا ہے۔ اگر ان کے بعد کوئی دوسرا شخص مسلمانوں میں اٹھتا جو مغربی سائنس کی اہمیت کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرتا تو ابتدائی کمی کی تلافی ہو جاتی مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ اور مسلمان دور جدید میں دوسری قوموں سے کم از کم سوسال پیچھے ہوگئے ۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے قانون میں اعلیٰ ڈگری لی ہے۔ اس کے بعد وہ پریکٹس کرنے والے تھے۔ اس درمیان میں انھیں الرسالہ اور دوسری کتا بیں مل گئیں۔ انھوں نے ان کا مطالعہ کیا تو وہ بالکل بدل گئے۔ انھوں نے طے کیا کہ اب وہ پریکٹس کرنے کے بجائے " اسلامی قانون اور انسانی قانون " پر ریسرچ کریں گے۔ اور قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر اس میدان میں دین کی خدمت کریں گے۔ چنانچہ وہ اس میدان میں سرگرم ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ بزرگ میرے قیام کے دوران بار بار آتے رہے اور ہر مجلس میں شریک رہے انھوں نے کہا کہ میرا مسلک یہ ہے کہ میں ہر عالم کی عزت کرتا ہوں اور اسی جذبہ کے تحت آپ کی مجلسوں میں بھی شرکت کرتا رہا ہوں۔ میرا قول ہے کہ لا نفرق بین احد من العلماء (ہم ایک عالم اور دوسرے عالم کے درمیان فرق نہیں کرتے)
۲۸ مارچ کو نماز ظہر کے بعد کھچیا کی مسجد میں اجتماع تھا۔ اس موقع پر میں نے " اللہ اکبر " کی تشریح کی۔ میں نے کہا کہ یہ لفظ جو روزانہ نمازوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے، اس کو آجکل کے مسلمانوں نے ایک تم کا نعرہ بنا لیا ہے جس کو وہ اپنے قومی جھگڑوں اور لڑائیوں میں دوسروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ حالاں کہ " اللہ اکبر " نعرہ احتساب ہے نہ کہ نعرہ جنگ۔ اللہ اکبر کا پیغام یہ ہے کہ خدا بڑا ہے ، اس لئے مجھے چھوٹا بن کر دنیا میں رہنا ہے۔ مگر مسلمانوں نے اس کا مطلب یہ سمجھ رکھا ہے کہ خدا بڑا ہے ، اس لئے مجھے دوسروں کو چھوٹا بنانا ہے۔ جو لفظ حقیقتہ احتسابِ خویش کا عنوان تھا اس کو مسلمانوں نے احتسابِ غیر کا عنوان بنا دیا۔ اس قسم کی تبدیلی صرف فساد پیدا کرتی ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues