votes were divided.
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲
اصلاح پیدا نہیں کرتی۔ اس بات کو میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ واضح کیا۔
۲۸ مارچ کی شام کو وینکٹ بھون میں پروگرام تھا۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے یہ ہال راجہ وینکٹ رمن سنگھ کا بنوایا ہوا ہے جو موجودہ راجہ مارٹن ٹرنگھ (ایم پی) کے والد تھے۔ اس ہال کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چار شیر بھس بھرے ہوئے (Stuffed) رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں میری تقریر کا موضوع " اسلام اور انسانی برابری " تھا۔ اس میں قرآن و حدیث کی تعلیمات بتائی گئیں، اور ان کو مختلف مثالوں سے واضح کیا گیا۔ ایک بنیادی بات میں نے یہ کہی کہ انسانوں کے درمیان ہمیشہ فرق ہوتا ہے، کوئی بڑا ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا، کوئی طاقتور ہوتا ہے اور کوئی کمزور۔ اسی سے نابرابری کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی نابرابری سماج میں ہمیشہ باقی رہے گی۔ انسانوں کی کاٹ چھانٹ کرکے آپ انہیں برابر نہیں کرسکتے، جیسا کہ کمیونزم نے ناکام طور پر کرنے کی کوشش کی۔
انسانوں کے درمیان برابری قائم کرنے کی عملی صورت صرف یہ ہے کہ ان کے درمیان ایسی ہستی کو کھڑا کردیا جائے جس کے آگے سب اپنے کو چھوٹا محسوس کرنے لگیں۔ خدائے برتر کا عقیدہ یہی کام کرتا ہے۔ کسی سماج میں اگر خدا کی بڑائی زندہ عقیدہ کے طور پر آجائے تو وہاں اپنے آپ برابری اور مساوات کا ماحول قائم ہوجائے گا۔ کیوں کہ انسان آپس میں ایک دوسرے سے بڑے ہیں، مگر خدا کے مقابلہ میں کوئی بڑا نہیں۔
میں نے کہا کہ اس ہال میں چار مردہ شیر موجود ہیں۔ مگر موجودہ حالت میں وہ ہمارے اندر ہلچل پیدا نہیں کرتے۔ لیکن اگر ایسا ہوکہ چار زندہ شیر یہاں داخل ہوکر دھاڑنے لگیں تو معاملہ بالکل دوسرا ہوگا۔ آپس میں لوگ نابرابر ہیں، مگر زندہ شیر کے مقابلہ میں تمام لوگ برابر ۔ ایک لطیفہ ہے کہ کچھ اونٹ آپس میں بحث کر رہے تھے کہ کون زیادہ اونچا ہے۔ چوں کہ ہر ایک میں تھوڑا بہت فرق تھا۔ اس لئے فیصلہ نہیں ہورہا تھا۔ کسی نے ان اونٹوں کو لے جاکر پہاڑ کے سامنے کھڑا کردیا۔ اب سب اونٹ چپ ہوگئے، کیوں کہ جہاں پہاڑ آجائے وہاں کوئی اونٹ بڑا انہیں رہ جاتا۔
جب شیر اور پہاڑ لوگوں کے اونچ نیچ کو ختم کر دیتے ہیں تو وہ خدا جو تمام شیروں کا اور تمام پہاڑوں کا خالق ہے، اس کی موجودگی کا احساس لوگوں کو کتنا زیادہ متاثر کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues