votes were divided.
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶
نگر‘‘ کہاں ہے۔ ۔ یہی حال اکثر ان خطوط کا ہوتا تھا جس پر مالویہ نگر لکھا ہوا ہوتا تھا۔ غرض فرقہ پرست افراد کی ساری کوششوں کے باوجود مالویہ نگر کا نام رائج نہ ہو سکا۔ اور نذیر آباد بدستور نذیر آباد ہی رہا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ مالویہ نگر‘‘ کے حامیوں کے پاس صرف تعصب تھا۔ اس کے مقابلہ میں ’’نذیر آباد‘‘ کے حامیوں کے پاس حقیقت تھی۔ اور جب تعصب اور حقیقت میں ٹکراؤ ہو تو حقیقت باقی رہتی ہے نہ کہ تعصب۔
ستنا کا نام ریونیو ریکارڈ میں رگھو راج نگر لکھا ہوا ہے۔ رگھو راج سنگھ یہاں کے راجہ تھے ان کے نام پر راجگان نے اس کا نام رگھو راج نگر رکھا تھا۔ مگر ستنا ریلوے اسٹیشن کا نام چونکہ ستنا تھا اس لئے عوام میں ’’ستنا‘‘ کا لفظ ہی جاری رہا، اور رگھو راج نگر جاری نہ ہو سکا۔ دوسری برعکس مثال مذکورہ بالا محلہ نذیر آباد کی ہے۔ بسانے والے مسلمان کے نام پر اس کا نام نذیر آباد ہے۔ یہاں کے فرقہ پرست عناصر نے اس کا نام ’’ مالویہ نگر‘‘ رکھا اور ہر قسم کی کوشش کی کہ اس کا نام مالویہ نگر مشہور ہو جائے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود نذیر آباد نذیر آباد ہی رہا ، وہ مالویہ نگر نہ ہو سکا۔
زندگی میں جو چیز فیصلہ کن بنتی ہے وہ تعصب نہیں، حقیقت ہے۔ حقیقت باقی رہتی ہے، اور تعصب گرد و غبار بن کر فضا میں اڑ جاتا ہے۔ حقائق اگر ’’ رگھو راج نگر‘‘ کے حق میں نہ ہوں بلکہ ’’ ستنا‘‘ کے حق میں ہوں تو ستنا چل جائے گا، رگھو راج نگر نہیں چلے گا۔ اسی طرح حقائق اگر ’’ نذیر آباد‘‘ کے حق میں ہوں ، ’’ مالویہ نگر‘‘ کے حق میں نہ ہوں ، تو نذیر آباد چل جائے گا اور مالویہ نگر فضا میں گم ہو کر رہ جائے گا۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ حقائق کو اپنے موافق بنائے ، کیوں کہ بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ حقائق ہیں نہ کہ تعصب اور ظلم۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ستنا سے جبل پور کے لئے بذریعہ کار روانہ ہوئے، ان کے پاس چار ’’ رسالہ کیسٹ‘‘ تھے۔ راستہ میں وہ ایک کے بعد ایک کیسٹ لگاتے گئے۔ اور راستہ چلتے ہوئے تمام کیسٹ سن لیا۔ ان کے ساتھ ایک وکیل صاحب بھی سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے پہلی بار یہ کیسٹ سنا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسٹ تو اتنے اثر انگیز تھے کہ پورا راستہ طے ہو گیا اور سفر کا اندازہ ہی نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues