Al-Risala · June 1988 · page 47

زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷

ہوا۔ وہ اس کی فکر سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے اور الرسالہ کے مستقل قاری بن گئے۔ آج کل کے مشغول انسان کے لئے آڈیو کیسٹ دعوت کا نہایت کار آمد ذریعہ ہے۔ میری مشغولیت کی وجہ سے الرسالہ کیسٹ کا سلسلہ ایک عرصہ سے بند تھا۔ اب خیال ہو رہا ہے کہ اس کو دوبارہ جاری کر دینا چاہئے۔

ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی خدا کے فضل سے الرسالہ کافی پھیلا ہے۔ جو شخص ایک بار الرسالہ پڑھ لیتا ہے، وہ خود ہی اس کا مبلغ بن جاتا ہے اور اس کو اپنے ماحول میں پھیلانا شروع کر دیتا ہے۔ ستنا کی ایک مسجد میں تذکیر القرآن مسلسل پڑھ کر سنائی جارہی ہے۔ یہاں بہت سے غیر مسلم حضرات بھی الرسالہ اور کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ مثلاً ٹھا کر لال بکرم جیت سنگھ کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ دلچسپی کے ساتھ " پیغمبر انقلاب " کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ پروفیسر کلیم احمد خاں صاحب نے اسلامی مرکز کی تمام چھوٹی بڑی کتابیں منگواکر مجلد کرائی ہیں اور منظم طریقہ سے انہیں دوسروں کو پڑھارہے ہیں۔ وغیرہ، وغیرہ۔

ستنا میں ایک صاحب نے میری گفت گو سننے کے بعد کہا کہ آپ صبر اور اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ حالاں کہ لقمان حکیم کا قول ہے کہ اتنے میٹھے نہ بنو کہ لوگ تم کو ہڑپ کر جائیں اور نہ اتنے کڑوے بنو کہ لوگ تمہیں تھوک دیں۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے کہا کہ آپ ایڈجسٹمنٹ کی باتیں کرتے ہیں حالاں کہ اقبال نے کہا ہے:

زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز

میں نے کہا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، قرآن و حدیث کے حوالہ سے کہتا ہوں، اور آپ لوگ اس کے جواب میں مقولہ اور شعر پیش کر رہے ہیں۔ جب کوئی بات قرآن و حدیث کے حوالہ سے کہی جائے تو آدمی کو چاہئے کہ اس کے جواب میں قرآن و حدیث پیش کرے۔ اور اگر اس کے پاس قرآن و حدیث نہ ہو تو چپ رہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بعد کے زمانہ میں ایک بار کسی مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول لوگوں کو سنایا۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ابو بکر و عمرؓ نے تو ایسا اور ایسا کہا ہے۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس غضب ناک ہوگئے ۔ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ تمہارے اوپر

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page