زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸
آسمان سے پتھر برسیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ، اور تم کہتے ہو کہ ابو بکر و عمر نے کہا ، قال ابن عباس ، يوشك ان تنزل عليكم حجارة من السماء۔ اقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقولون قال ابوبكر وعمر)
ایک صاحب نے کہا کہ آجکل اردو اخباروں اور رسالوں میں آپ کے خلاف لکھا جا رہا ہے ، مگر آپ ان کا جواب نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص واقعی معنوں میں دینی یا علمی تنقید پیش کرے تو ہم ضرور اس کے بارے میں لکھیں گے۔ مگر آجکل جو تحریریں ہمارے خلاف چھپ رہی ہیں ان میں کوئی دینی یا علمی دلیل نہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ سب لغو تحریریں ہیں اور لغو بات کے سلسلہ میں ، ہمیں اعراض کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے (المؤمنون ۳ ، الفرقان ۷۲) سورہ القصص (۵۵) میں اہل ایمان کی ایک جماعت کا ذکر ہے۔ کچھ لوگوں نے ان کے دین کا مذاق اڑایا ، اور ان کے ساتھ جہالت کی۔ انھوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہہ کر ان سے الگ ہو گئے کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ تم کو سلام ، ہم بے سمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔
میں نے ان مخالفانہ تحریروں کو پڑھا تاکہ ان میں اگر واقعی کوئی بات ہو تو اس کی وضاحت کی جائے مگر میں نے پایا کہ یہ تمام تحریریں بالکل غیر سنجیدہ ہیں۔ ان میں استہزاء ، بے بنیاد الزام اور لفظی سب وشتم کے سوا اور کچھ نہیں۔ پھر ایسی لغو باتوں کا کیا جواب دیا جائے۔ اس قسم کے لغو کلام سے تو صرف اعراض ہی کیا جا سکتا ہے۔
مدھیہ پردیش ایک ہندی ریاست ہے۔ یہاں ۹۵ فی صد لوگ ہندی ہی میں لکھتے پڑھتے ہیں۔ اس بنا پر یہاں کے لوگوں نے شدت سے مطالبہ کیا کہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن جاری کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مزید بات یہ سامنے آئی کہ الرسالہ کا ہندی ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ کیا جائے کہ اردو الرسالہ ہی کو ہندی رسم الخط میں شائع کیا جائے۔ یہ بات مجھے بہت درست معلوم ہوتی ہے۔ میں نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے ملاقاتوں کے دوران محسوس کیا کہ یہ لوگ خواہ اردو کو پڑھ نہ سکیں مگر وہ کم از کم آسان اردو کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً بار ایسوسی ایشن کے اجتماع (۲۹ مارچ) میں ۹۹ فی صد ہندو صاحبان تھے اور سارا ہال
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues