Starve the problems, feed the opportunities.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸
یعنی یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے ۔ یہاں جو لوگ شکست کے خلاف شکوہ شکایت چھوڑ دیں اور حالات کے بارہ میں کچھ مثبت کام کرنے کی خاطر اس کو مان لیں ، وہی آخر کار کامیاب ہوتے ہیں ۔ ہمیں کبھی اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ تدبیری طور پر پیچھے ہٹنا، دوبارہ میدان مقابلہ میں آنے کو ممکن بناتا ہے ۔ اس حکمت عملی کو چودہ سو سال پہلے مسلمانوں نے بہت اچھی طرح سمجھ لیا تھا جب کہ انھوں نے حدیبیہ کے صلح نامہ کو تیار کیا تھا۔ یہ صلح اگر چہ بظاہر دشمن سے بہت زیادہ جھک کر کی گئی تھی۔ مگر آخر کار اس نے اسلامی مشن کو یہ موقع دیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھتا چلا جائے ۔
ٹائمس آف انڈیا کے مذکورہ مضمون میں ایک ذیلی سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی تھی : Strategic Retreat. یعنی تدبیری واپسی۔ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن (الأنفال (۱۶) میں کہی گئی ہے۔ مگر الرائد نے تشویہ حقائق کے اصول کے تحت یہ کیا کہ اس نے صرف لفظ Retreat کو لے لیا اور دوسرے لفظ Strategic کو حذف کر دیا۔ یعنی جو چیز "تدبیری واپسی" کے طور پر کہی گئی تھی اس کو صرف " واپسی " بنا کر پیش کر دیا۔
یہ وہی طریقہ ہے جس کے ذریعہ کسی نے قرآن سے یہ حکم نکال لیا تھا کہ " نماز کے قریب نہ جاؤ" اور اس عجیب و غریب قرآنی تعلیم کا ماخذ یہ تھا کہ اس نے قرآن کی ایک آیت کو ادھوری شکل میں پیش کیا۔ قرآن میں کہا گیا تھا کہ : لا تَقْرَبُوا الصَّلَوةَ وَأَنْتُمْ سُكارى - (النساء (۴۳) اس نے سادہ طور پر یہ کیا کہ آیت کے آخری لفظ کو حذف کر دیا اور کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ لا تَقْرَبُوا الصَّلوة اگر یہ کوئی طریق استدلال ہے تو اس طرح ہر بات ثابت کی جا سکتی ہے ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ الٹی بات کیوں نہ ہو ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues