زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹
پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ مگر میری اردو تقریر کو ہر آدمی نے پوری طرح سمجھا۔ اسی طرح دوسرے اجتماعات میں بھی ہندو صاحبان اور ہندی داں لوگ تھے، مگر کسی ایک شخص نے بھی یہ شکایت نہیں کی کہ آپ کی زبان سمجھ میں نہیں آئی۔
ان حالات کی روشنی میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ موجودہ اردو رسالہ ہی کو رسم الخط بدل کر ہندی میں شائع کیا جائے انشاء اللہ اس پر جلد عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سیاسی اور اجتماعی اعتبار سے غالب کرنے کے لئے آپ کے پاس کیا پروگرام ہے۔ کیوں کہ آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان غلبۂ کفر کے تحت زندگی گز ار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے۔ اس ملک میں "کفر" کا اقتدار نہیں ہے بلکہ "سیکولرزم" کا اقتدار ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہاں غلبۂ کفر کی حالت نہیں ہے بلکہ غلبۂ نا طرف داری کی حالت ہے۔ یہ صورت حال عین ہمارے حق میں ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کو ہمیں بھر پور طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ ۲۹ مارچ کی دوپہر کو محمدیہ احسانیہ ہائر سکینڈری اسکول (ستنا) میں پر وگرام تھا۔ شہر کے مسلم اہل فکر اور اعلی تعلیم یافتہ حضرات اکٹھا ہوئے ۔ اس موقع پر علم کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ میں نے بتایا کہ علم کا تعلق سروس سے محض ثانوی ہے۔ علم بذات خود مطلوب ہے۔ علم سے ذہن وسیع ہوتا ہے۔ آدمی دین کا اور تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے اور اس طرح اس قابل بنتا ہے کہ زیادہ گہری واقفیت کے ساتھ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے۔ اس بات کو تاریخ کی مثالوں سے واضح کیا گیا۔ نذیر آباد (ستنا) کی مسجد میں ۳۰ مارچ کو نماز فجر کے بعد درس تھا۔ قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں دین میں شکر کی اہمیت بتائی گئی اور یہ بتایا گیا کہ دوزخ اور جنت کیا ہے، اور کس قدر ضروری ہے کہ آدمی دوزخ سے بھاگے اور جنت کا حریص بنے۔
۲۹ مارچ کو دن میں ۲ بجے ستنا کے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں پروگرام تھا۔ پورا هال وکیل صاحبان سے بھرا ہوا تھا ۔ ڈسٹرکٹ جج اور مجسٹریٹ صاحبان بھی موجود تھے۔ میں نے تقریر شروع کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان کیا۔ دہلی میں میری ملاقات ایک وکیل صاحب سے ہوئی۔ وہ فوجداری میں وکالت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ پورا مقدمہ ایف
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues