Al-Risala · June 1988 · page 40

Unilateralism is Best

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰

آئی آر (F.I.R) چر چلاتے ہیں۔ ہم اس کھوج میں نہیں پڑتے کہ واقعہ کی اصلیت کیا ہے۔ اگر کوئی واقعہ کی اصلیت کو دیکھے تو پھر اس کا ٹائر پنکچر ہو جائے گا۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ قانون داں ہیں۔ آپ معاملہ کے لیگل پہلو کو دیکھتے ہیں۔ مگر اسلام معاملہ کے اسپرچول پہلو کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر کو متاثر کرتا ہے۔ وہ آدمی کے ٹائر کو پنکچر کر دینا چاہتا ہے۔

پھر میں نے کہا کہ ہر آدمی کے اندر بیک وقت دو قوتیں ہیں۔ ایک وہ جس کو قرآن میں نفس امارہ کہا گیا ہے ۔ اور دوسرا وہ جس کو نفس لوامہ کہا گیا ہے۔ نفس امارہ دراصل وہی چیز ہے جس کو آج کل انا (Ego) کہا جاتا ہے اور نفس لوامہ سے مراد ضمیر (Conscience) ہے۔ اب یہ آپ کا امتحان ہے کہ آپ دونوں میں سے کس صفت کو جگاتے ہیں۔ اگر آپ نے آدمی کی انا کو جگایا تو اس کی سرکشی آپ کے حصہ میں آئے گی ، اور اگر آپ نے اس کے ضمیر کو جگایا تو اس کے ضمیر کا فیصلہ آپ کے حصہ میں آئے گا۔

27 مارچ کی شام کو مہاویر بھون (ستنا) میں پروگرام تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں بہت بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ تقریر کا موضوع " اسلام اور قیام امن" رکھا گیا تھا۔ میں نے کہا کہ دہلی کے ایک انگریزی اخبار میں حال میں ایک آرٹیکل چھپا تھا ، جس کا عنوان تھا : Bilateralism is Best یعنی دو طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ دو فریق کے درمیان اختلاف اور شکایت ہو تو دونوں کو نصف نصف ذمہ داری لے کر معاملہ کو ختم کر دینا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل غیر عملی بات ہے۔ اس دنیا میں "ففٹی ففٹی " کی بنیاد پر کبھی کوئی اختلافی مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ صحیح طریقہ اس کے برعکس ہے۔ صحیح طریقہ یک طرفہ طریقہ ہے :

Unilateralism is Best

مگر یک طرفہ طریقہ پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے دل میں انسانوں کے لئے محبت اور خیر خواہی کا دریا بہہ رہا ہو۔ چوں کہ لوگ نفرت میں اور ردعمل میں جیتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ یکطرفہ طریقہ پر عمل نہیں کر پاتے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سے بتایا کہ آپ نے قدیم عرب

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page