Al-Risala · June 1988 · page 41

Unilateralism is Best

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱

میں اسی یکطرفہ طریقہ پر عمل کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی۔

تقریر کے بعد ایک مسلمان بھائی ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں فیض آباد کا رہنے والا ہوں، یہاں بزنس کے سلسلے میں آیا تھا۔ پروگرام کی خبر سن کر یہاں آگیا۔ میں آپ کی بات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی ایک تقریر فیض آباد میں رکھی جائے ۔ وہاں آپ جیسے رہنماؤں کی سخت ضرورت ہے۔

اس جلسہ کے صدر مسٹر شیام سندر شرما (ایڈیٹر دیش بندھو) تھے۔ انھوں نے آخر میں اپنی صدارتی تقریر کی اور کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اسلام پر اتنی اعلیٰ تقریر سنی ہے۔ انھوں نے اپنے غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔

ستنا سے قریب پنّا ہے جہاں ہیرے کی کانیں ہیں۔ یہاں بھی الرسالہ جارہا ہے۔ پنا سے آٹھ آدمی ستنا آئے اور پروگرام میں شریک رہے۔ وہ لوگ مجھ کو پنّالے جانا چاہتے تھے مگر وقت کی کمی کے باعث میں وہاں نہ جا سکا۔ انھوں نے بتایا کہ پنا میں باشعور طبقہ برابر الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہے اور اس سے اثر قبول کر رہا ہے۔ وہاں کی ایجنسی کے تحت انگریزی الرسالہ بھی جارہا ہے۔ ایک ہندو تعلیم یافتہ استاد نے انگریزی الرسالہ پڑھ کر کہا کہ الرسالہ ایک ایشوری دین ہے، اس کے ذریعے خدا نے اپنے بندوں کی رہنمائی کا انتظام کیا ہے۔

خطابِ عام کے علاوہ، قیام گاہ پر لوگ جمع ہوتے رہے اور مختلف دینی اور علمی موضوعات پر اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ ستنا کی ایک مجلس میں ایک صاحب نے جماعت تبلیغ پر کچھ شخصی اور جزئی نوعیت کے اعتراضات کئے ۔ میں نے کہا کہ اعتراض کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ یہ ایک قسم کی سائیڈ ٹریکنگ ہے۔ اور سائیڈ ٹریکنگ کبھی کسی آدمی کے لئے مفید نہیں ہوتی۔ کسی مشن کے سلسلہ میں ہمیشہ یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے ، اور اصل مقصد کی روشنی میں اس پر رائے قائم کرنا چاہئے۔ جزئی شوشوں اور شخصی قصوں کے پیچھے دوڑنا ایک غیر اسلامی فعل ہے، یہ طالب حق کا طریقہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اس وقت ملت میں دو قسم کی کوششیں چل رہی ہیں۔ ایک کو میں اپنے الفاظ میں خارج اور نیٹڈ کہوں گا، اور دوسری کو داخل اور ینٹڈ۔ میرے مطالعہ کے مطابق تبلیغی جماعت واحد جماعت ہے جس کو داخل اور ینٹڈ تحریک کہا جا سکتا ہے۔ اس ایک کے سوا جتنی بھی تحریکیں ملت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page