Al-Risala · June 1988 · page 24

Unilateralism is Best

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴

مسائل کے لئے نہیں اٹھتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس قسم کے مسائل پر انھیں کبھی لیڈری نہیں ملے گی۔ البتہ غیر قوم کی طرف سے مداخلت فی الدین کا کوئی قصہ ہاتھ آجائے تو فورا اس کو لے کر اٹھ جاتے ہیں اور جاہل مسلمانوں کی بھیڑ جمع کرکے اپنی شان قیادت میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر لوگوں کو جاننا چاہئے کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (البقرہ (البقره:85) کہا گیا ہے۔ اس قسم کی سرگرمیاں صرف خدا کے غضب کا مستحق بنانے والی ہیں، وہ خدا کے انعام کو کھینچنے والی نہیں۔

۳۰ مارچ ۱۹۸۸ کی شام سناتے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ ڈبہ میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ میری برتھ اوپر ہے۔ اشارۃ میری زبان سے نکلا کہ ” لور برتھ “ ہوتی تو زیادہ اچھا تھا۔ رزولوشن کے مطابق یہ لور برتھ ایک ہندو افسر کے پاس تھی۔ ان سے میں نے کچھ نہیں کہا تھا۔ یہ بات میں نے ان لوگوں سے کہی تھی جو مجھے پہنچانے کے لئے ریلوے اسٹیشن تک آئے تھے۔ ہندو افسر کو میرے احساس کا علم ہوگیا انھوں نے فوراً کہا کہ آپ نیچے کی برتھ لے لیں، میں اوپر چلا جاتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ” انسان “ ہے۔ وہ صرف اس وقت ”غیر انسان “ بن جاتا ہے جب کہ اس کی انا کو چھیڑ دیا جائے۔ میری واپسی دوبارہ قطب ایکسپریس سے ہوئی۔ ۳۰ اور ۳۱ مارچ کی درمیانی رات کو ٹرین میں ایک انوکھا حادثہ پیش آیا۔ سفر کے دوران میں ضرورت کے تحت ٹوائلٹ میں گیا ۔ اس وقت میں چپل پہنے ہوئے تھا۔ اتفاق سے میرے بائیں پاؤں کا چپل، پاؤں سے نکل گیا۔ وہ پھسل کر قدمچہ کے درمیان سوراخ تک پہنچا اور ایک لمحہ میں اس کے اندر داخل ہو کر نیچے گرگیا۔ یہ واقعہ چلتی ہوئی ٹرین میں پیش آیا، اس لئے چپل کو دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہ ہوسکا۔

اچانک خیال آیا کہ یہ حادثہ زمین کی کشش کی وجہ سے ہوا۔ اگر زمین میں کشش نہ ہوتی تو چپل جہاں تھا وہیں پڑا رہتا، وہ گر کر نیچے نہ جاتا۔ پھر فوراً ہی میں نے سوچا کہ اگر زمین میں کشش نہ ہوتی تو ٹرین بھی نہ دوڑتی۔ حتی کہ وہ فیکٹری بھی قائم نہ ہوسکتی جہاں جوتے اور چپل بنیں اور کوئی شخص ان کو پہن کر سفر کرے۔ خدا کی دنیا میں ( اور اسی طرح خدا کے دین میں بھی ) مختلف پہلوؤں کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھا گیا ہے۔ جو لوگ توازن کی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ عجیب عجیب غلط فہمیوں میں پڑ جاتے ہیں ، دنیا کے بارہ میں بھی اور خود دین کے بارہ میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page