غلط ذہن
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴
غلط ذہن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین آپ سے " آیت " مانگتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کیا تھیں " بینہ " نہیں دے دیا گیا۔ آیت سے مراد حسی معجزہ ہے اور بینہ سے مراد آپ کی پیغمبرانہ صداقت کی وہ دلیل ہے جو لفظی طور پر سابق کتب سماوی میں ملتی ہے۔ لفظی دلیل میں چونکہ توجیہہ و تعبیر کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لئے انھوں نے کہا کہ ہمارے سامنے ایسی حسی دلیل پیش کرو جس سے انکار کی گنجائش ہی نہ ہو۔ (طہٰ ۳۵ - ۱۳۳)
فرمایا کہ اصل مسئلہ دلیل کا نہیں، اصل مسئلہ تمہاری ذہنیت کا ہے۔ تم چونکہ حق ناحق کے بارہ میں سنجیدہ نہیں ہو اس لئے دلیل کا دلیل ہونا تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔
صداقت جب بھی ظاہر ہوتی ہے، وہ اپنی دلیل آپ بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ مگر اس کی دلیل کو پانا اور اس کا اقرار کرنا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اس کے بارہ میں سنجیدہ ہو، لوگوں کی تلبیست اور مفاد پرستی انھیں حق کے بارہ میں سنجیدہ ہونے نہیں دیتی۔ وہ اپنے دماغ کو حق اور ناحق کی بحث میں زیادہ مشغول نہیں کرتے۔ وہ اس موضوع پر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتے۔ اس بنا پر وہ دلیل کے وزن کو بھی محسوس نہیں کر پاتے۔ وہ دلیل پیش کئے جانے کے باوجود اس طرح بولتے رہتے ہیں جیسے کہ ابھی ان کے سامنے دلیل پیش ہی نہیں کی گئی۔
ظالم انسان اس وقت تک اقرار نہیں کرے گا جب تک وہ اقرار کے لئے مجبور نہ کر دیا جائے۔ قیامت کے ظہور کے بعد ایسا ہی ہوگا۔ مگر اس وقت کے اقرار کا کیا فائدہ۔ وہ تو انجام بھگتنے کا وقت ہوگا نہ کہ ماننے یا عمل کرنے کا۔
انسان کا حال یہ ہے کہ اگر خدا کی طرف سے کوئی پیغام دینے والا آئے تو وہ اس سے جھوٹی بحثیں کرتا ہے۔ اور اگر خدا کوئی پیغام دینے والا نہ بھیجے اور بتائے بغیر لوگوں کو ان کی غلط روش پر پکڑلے تو وہ کہیں گے کہ آپ نے ہم کو خبر دار کیوں نہیں کیا۔ اگر ہم کو پہلے بتا دیا گیا ہوتا تو ہم ہرگز اس کے خلاف نہ کرتے۔ وہ دونوں حالتوں میں غلط روش اختیار کرتا ہے۔
ہدایت اگرچہ داعی کی طرف سے سامنے آتی ہے، مگر اس کو قبول کرنے کا انحصار تمام تر مدعو کے اوپر ہوتا ہے۔ مدعو کے اندر اگر طلب ہوگی تو وہ ہدایت کو پائے گا، ورنہ وہ اس سے محروم رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues