غلط ذہن
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۴۶
ممالک میں پھیلائیں گے ۔ اس کتاب کے بارہ میں انھوں نے اپنا تاثر حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے :
Very enlightening indeed, scholarly work no doubt. ۵- کلکتہ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر ہیرا لال چوپڑا آج کل الرسالة کا مطالعہ کر رہے ہیں اور مرکز کی کئی کتابیں پڑھی ہیں۔ اسی تاثر کے تحت وہ ۴ اپریل کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ انھوں نے اپنا ایک تحریری تاثر دیا جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ مولاناوحید الدین خاں صاحب نے کتاب (ظہورِ اسلام) لکھ کر بنی نوع انسان پر بڑا بھاری احسان کیا ہے “ ان سے ملاقات کا تفصیلی تذکرہ ان شاء اللہ ایک علیحدہ مضمون میں شائع کیا جائے گا۔ مرکز کی مطبوعات کا وہ گہری دل چسپی کے ساتھ مطالعہ کر رہے ہیں ۔ 6۔ آج کل کچھ لوگ اپنے حقیر مقاصد کے لیے الرسالة کے تعمیری مشن کے خلاف جھوٹی الزام بازی کی مہم چلا رہے ہیں ۔ دوسری طرف اللہ کے فضل سے الرسالة کا فکرِ عالمی سطح پر پھیلتا چلا جا رہا ہے جس کی شہادتیں بار بار مختلف صورتوں میں سامنے آرہی ہیں۔ سعودی عرب کے سب سے زیادہ کثیر الاشاعت جریدة الدعوة (۱۰ شعبان ۱۴۰۸ھ مطابق ۲۸ مارچ ۱۹۸۸ء) نے صفحہ ۵۰ پر “ الشوط الاخیر کے مستقل عنوان کے تحت ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں الرسالة کے نقطہ نظر کی واضح تائید ہے۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ اولاً ہمیں سختی مستوی پر کام کرنا چاہیے تاکہ اگلے مرحلہ میں ہم سیاسی مستوی کو متاثر کر سکیں ۔ مضمون کے آخری الفاظ یہ ہیں : فلنبدأ بما نملك حتى يحقق الله لنا ما لا نملك ولنصلح القاعدة حتى يصلح الله القمة ۔ یہ الفاظ الرسالة کی فکر سے اتنا زیادہ مطابق ہیں کہ وہ اس کا ترجمہ معلوم ہوتے ہیں ۔
۷- جناب ایم ۔ بی ۔ پیرزادہ جو سعودی عرب میں رہتے ہیں، انھوں نے اپنے خط ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء کے مطابق، اپنی طرف سے زرِ تعاون ادا کر کے اپنے دس دوستوں اور رشتہ داروں کے نام الرسالة اردو اور انگریزی جاری کرایا ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے لوگ کر رہے ہیں ۔ اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ دعوت دین اور تعمیر ملت کے مشن کی توسیع
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues