مسلمانوں کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲
ہو، تا کہ فیصلہ کے بعد اس کے عملی نفاذ کی یقینی ضمانت ہو سکے ۔
میری تقریر تمام لوگ بیحد غور کے ساتھ سنتے رہے ۔ جب وہ ختم ہوئی تو بہت اویندراتھ اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم کو یہ بات منظور ہے۔ اس انداز پر بات کو آگے بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مولانا صاحب (راقم الحروف) سے میں تفصیلی گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ان کے بتائے ہوئے راہ عمل پر چلا گیا تو یہ مسئلہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جائے گا۔ بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ عین اس وقت بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے چیئر مین، جو کہ ایم پی بھی ہیں، مشتعل ہو کر چلنے لگے۔ وہ اتنے زور زور سے بول رہے تھے کہ یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بمشکل میں اتنا سن سکا کہ "ہم اس تجویز پر راضی نہیں ہیں "
اس گفتگو کے موقع پر جماعت اسلامی کی طرف سے بھی اس کے ایک ذمہ دار بزرگ شریک تھے۔ مگر ناقابل فہم سبب کے تحت وہ مکمل طور پر خاموش رہے۔ یہاں تک کہ چیئر مین صاحب کی چیخ پکار کے ساتھ میٹنگ برخاست ہو گئی ۔
میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ مسلم لیڈروں نے میری مذکورہ بات سے اختلاف کیوں کیا۔ جب کہ اپنے اعلان کے مطابق ، وہ خود اسی قسم کے با عزت حل کی تلاش میں ہیں۔ بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ "کریڈٹ" کے مسئلے نے انھیں اس اختلاف پر مجبور کیا۔ وہ اپنے سیاسی مزاج کے تحت ایک ایسے حل پر راضی نہ ہو سکے جس کا کریڈٹ ان کے سوا کسی اور کو مل رہا ہو۔ مسٹر گووند مکھوٹی (صدر دہلی بار ایسوسی ایشن) نے بابری مسجد کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے :
" اس قضیہ کا فیصلہ کسی بھی عدالت میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آسان صورت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے روشن خیال لوگ خلوص دل سے اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کا فیصلہ کریں۔ " افکار ملی ، 37۱ مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳ اس میں شک نہیں کہ اس معاملہ میں یہی سب سے زیادہ قابل عمل بات ہے۔ جس قضیہ سے عوامی جذبات اتنے زیادہ وابستہ ہوں یا وابستہ کر دیئے جائیں ۔ اس کو محض عدالتی حکم کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یکم فروری ۱۹۸۶ کو فیض آباد کی عدالت نے ایک حکم دیا تھا۔ مگر اس کا انجام یہ ہوا کہ ہندوؤں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues