Al-Risala · July 1988 · page 29

صفحات ۱۱۳ قیمت ۲۵ روپے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹

اعزاز پسندی کی نفسیات کو رد کرتا ہے۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ یہ دوسری چیز اکثر ان لوگوں میں مزید اضافے کے ساتھ موجود ہوتی ہے جو تمغہ اعزاز کو رد کرنے کے چیمپئن بنتے ہیں۔ کیوں کہ اعزاز کو رد کرنا عوام کی نظر میں انھیں مزید برتر اعزاز کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔

سہارن پور دہلی سے ۱۶۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر مغربی یوپی میں واقع ہے۔ یہ شہر ۱۳۴۰ء میں آباد ہوا۔ اس وقت کے ایک مسلم بزرگ شاہ ہار ان چشتی کے نام پر اس کا نام " شاہ ہار ان پور " رکھا گیا جو بعد کے استعمال میں سہارن پور ہوگیا۔ ہندوؤں کا تیرتھ استھان ہر دوار اسی ضلع میں واقع ہے۔ مشہور عربی درس گاہ دار العلوم دیو بند بھی اسی ضلع میں ہے جو ابتدا ء ۶۱۸۶۶ میں قائم ہوئی تھی۔ خود شہر سہارن پور میں مظاہر العلوم کے نام سے ایک بڑا تعلیمی ادارہ موجود ہے۔ چھوٹے چھوٹے دینی مدارس در جنوں کی تعداد میں اس کے علاوہ ہیں۔ سہارن پور شہر کی آبادی تقریباً ۵ لاکھ ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد ۳۰ فی صد بتائی جاتی ہے۔ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے یہاں کے مسلمان نسبتاً اچھی حالت میں ہیں۔ رڑ بھی اسی ضلع میں ہے جہاں ہندوستان کی پہلی انجینئرنگ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ رڑکی کے تصور سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک صاحب ہیں جنھوں نے ۱۹۵۵ میں بی ایس سی (انجینئرنگ) کیا تھا۔ اس وقت ہندوستان میں صرف رڑکی میں ایم اے (انجینئرنگ) کا کورس تھا۔ مزید یہ کہ اس وقت یہ کورس صرف ایک سال کا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اب آپ رڑکی کی انجینئرنگ کالج میں داخلہ لے لیں اور انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری کا کورس کر لیں۔ مگر انھوں نے میرا مشورہ نہیں مانا اور ملازمت میں چلے گئے۔ بعد کو ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کا مشورہ نہ مان کر سخت غلطی کی۔ میں ٹیچنگ کے کام کو پسند کرتا ہوں مگر ماسٹر ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے میں یونیورسٹی میں جگہ حاصل نہ کر سکا۔ آخر کار مجھے ایڈمنسٹریشن میں جانا پڑا۔ وہ ایک شریف آدمی ہیں۔ رشوت وغیرہ سے بہت دور رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے جیسے آدمی کے لئے یونیورسٹی ٹیچر کی زندگی بہترین زندگی تھی۔ ایڈمنسٹریشن کے لئے ، کم از کم اس ملک میں ، تو میں بالکل ہی غیر موزوں ہوں۔ نتیجہ یہ ہے کہ میں مستقل طور پر ذہنی الجھن میں رہتا ہوں۔ مجھے کبھی وہ چیز نہ مل سکی جس کو اطمینان کار (Job satisfaction) کہا جاتا ہے۔

مذکورہ کہانی بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا : " میں نے اپنا ایک سال بچانا چاہا تھا، اس کے نتیجہ میں میری پوری زندگی کھوئی گئی ، اور آپ جانتے ہیں کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ "

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page