The United States and the Arab World.
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
دہلی سے سہارن پور تک کا سفر (۱۹ اپریل ۱۹۸۸) پر پروفیسر ایم ایس اگوان٘ی وائس چانسلر جواہر لال نہرو یونیورسٹی، کے ساتھ ہوا۔ وہ ایک علم پسند اور صاحب مطالعہ آدمی ہیں۔ چنانچہ پورے راستے میں ان کے ساتھ مفید تبادلہ خیال جاری رہا۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنا ڈاکٹر یٹ ہالینڈ کی واغی نگن یونیورسٹی (Wageningen Agricultural University) سے ۱۹۵۳ میں کیا ہے۔ پی ایچ ڈی کے لئے ان کے مقالہ کا عنوان یہ تھا:
The United States and the Arab World.
انھوں نے بتایا کہ واغی نگن میں وہ تقریباً دو ہفتہ ایک عیسائی پروفیسر ہافسٹی (Prof. Hofstee) کے یہاں مقیم رہے۔ یہ پروفیسر صاحب پروٹسٹنٹ تھے۔ ان کے یہاں کھانا پکانے کے لئے ایک خادمہ تھی جو کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی تھی۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک میں اتنا زیادہ مذہبی اختلاف ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو بے دین سمجھتے ہیں۔ اس مذہبی اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا مکمل احترام کرتے تھے۔ گھر کے مالک، ان کی بیوی بچے اور خادمہ سب ایک ساتھ میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ کیتھولک لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کھانے سے پہلے کچھ دعائیہ کلمات پڑھتے ہیں، اس کے بعد انگلی سے اپنے سینہ پر صلیب کا نشان بناتے ہیں ، پھر کھانا شروع کرتے ہیں۔ مذکورہ پروفیسر اور ان کے گھر کے لوگ کھانے کے وقت میز کے کنارے بیٹھ جاتے تھے۔ سب سے پہلے کیتھولک خادمہ اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق مختصر دعائیہ رسم ادا کرتی۔ اس وقفہ میں گھر کے تمام پروٹسٹنٹ افراد خاموشی کے ساتھ گردن جھکائے ہوئے اپنی کرسیوں پر بیٹھے رہتے۔ اور صرف اس وقت کھانا شروع کرتے جب کہ کیتھولک خادمہ اپنی دعائیہ رسم سے فارغ ہو جاتی۔
سہارن پور جاتے ہوئے سڑک کے دونوں طرف مسلسل ہریالی اور باغ کا منظر تھا۔ یعنی وہی منظر جس کی قرآن میں ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے : لَقَدْ كَانَ لِسَبَا فِی مَسْکَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِينٍ وَّ شِمَالٍ (سبا ۱۵) قرآن میں اہل سبا کے سرسبز باغات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کو اس نعمت پر شکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر انھوں نے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ وہ ان باغات سے محروم کر دیے گئے۔
اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے ذہن میں آیا کہ عام طور پر لوگ شکر کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ خود
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues