Al-Risala · July 1988 · page 31

The United States and the Arab World.

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱

اپنی ذات کے لئے کوئی نعمت ملے تو اس پر شکر کا کلمہ کہہ دیا جائے۔ مگر یہ شکر کی بہت ناقص اور محدود شکل ہے کیوں کہ عام طور پر آیا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں احسانات خداوندی کا بظاہر ہر ایک چھوٹا سا جزو کسی فرد کو ذاتی طور پر ملتا ہے۔ اب اگر صرف ذاتی عطیہ پر شکر کرنا ہو تو آدمی کے اندر شکر کی ایک چھوٹی نہر تو جاری ہو سکتی ہے مگر شکر کا اتھاہ سمندر اس کے سینہ میں موجزن نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر خدا وند عالم کی بے پایاں عظمتوں کے اقرار کا نام ہے ۔ یہ شکر کا یہ درجہ کسی شخص کو اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ وہ خدا کے عظیم تر احسانات پر جذبہ شکر سے سرشار ہو سکتا ہو۔ محدود احسان کے تصور سے محدود شکر پیدا ہوتا ہے۔ اور لا محدود احسان کے تصور سے لا محدود شکر ۔

راستہ میں ہمارا قافلہ دیوبند سے گزرا۔ یہ سہارن پور کا مشہور قصبہ ہے۔ قدیم عربی درس گاہ " دارالعلوم " یہیں واقع ہے۔ دار العلوم کی النادی الادبی کی دعوت پر ستمبر ۷اء کے پہلے ہفتہ میں دیو بند آیا تھا۔ النادی الادبی کے سالانہ اجتماع میں مجھے مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اس سفر کے موقع پر دیوبند میں میری کئی تقریریں ہوئی تھیں۔ اس کی روداد الجمعیۃ ویکلی (17 ستمبر ۷اء ) میں شائع ہو چکی ہے۔ ایک تقریر میں میں نے کہا تھا: " موجودہ حالات بظاہر دل شکن ہیں۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی خواہ کتنا ہی زیادہ لٹ گیا ہو، پھر بھی اس کے پاس کچھ چیزیں باقی رہتی ہیں۔ اور اگر دانش مندی سے کام لے کر ان موجود چیزوں کو استعمال کیا جائے تو ہر بربادی کے بعد نئی عظیم تعمیر کا امکان نکل آتا ہے۔ "

دیوبند کے ایک طالب علم کی فرمائش پر میں نے حسب ذیل سطریں اس کی ڈائری میں لکھی تھیں: " زندگی اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ مگر اس متاع کی قیمت بازار حیات میں اس وقت ملتی ہے جب کہ آدمی خود اس کی قیمت دے چکا ہو۔ زندگی وہ سودا ہے جو خارجی بازار میں فروخت ہونے سے پہلے خود آدمی کے اپنے اندر فروخت ہوتا ہے۔ یہ آپ کے حوصلہ کا امتحان ہے۔ آپ خود اپنی جتنی زیادہ قیمت لگائیں گے ، بازار عالم میں اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت لگے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی دوسروں کی نظر میں زیادہ قیمتی ٹھہرے تو سب سے پہلے خود اس کے خرید ار بنئے ! یہ دوسرے نہیں بلکہ خود آپ ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ بازار عالم میں آپ کی قیمت کتنی مقرر ہوگی (4 ستمبر ۷اء ) رائے پور ایک قصبہ ہے جو سہارن پور ضلع میں واقع ہے۔ یہاں مولانا عبد القادر رائے پوری

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page