If you have a good excuse, don't use it.
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۷
میں نے کہا کہ وہ تنقید نہیں ، استہزا ہے۔ تنقید وہ ہے جس میں علمی تجزیہ ہو۔ اس میں کوئی علمی تجزیہ نہیں اس میں تو صرف لفظی مذاق اڑایا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ استہزا کرنا یا مذاق اڑانا ہمیشہ غیر سنجیدہ لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے ، ان سب کا مذاق اڑایا جاتا رہا۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ولقد استهزى برسل من قبلك (انعام ۱۰) دوسری جگہ فرمایا گیا ہے :
يا حسرة على العباد ما يأتيهم من رسول الا كانوا به يستهزون (يس ۳۰)
پھر میں نے کہا کہ استہزا کا میدان اتنا وسیع ہے کہ کسی بھی شخص کا مذاق اڑایا جاسکتا ہے ، خواہ بذات خود وہ کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو۔ استہزا کرنے کے لئے زیر استہزا شخص کے اندر نقص کا ہونا ضروری نہیں ۔ استہزا کرنے والے کے اپنے اندر غیر سنجیدگی اور اللہ سے بے خوفی ہونا کافی ہے۔ اگر یہ سرمایہ کسی پاس ہو تو وہ پیغمبروں تک کا حتی کہ خدا کا بھی مذاق اڑ اسکتا ہے ، جیسا کہ موجودہ زمانہ کے ملحدین کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں مگر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں آپ کا جو نقطۂ نظر ہے اس سے مجھے سخت اختلاف ہے۔ مزید دریافت کرنے پر انھوں نے کہا کہ "الرسالہ مسلمانوں کو بز دل بنا رہا ہے "
جن صاحب نے یہ بات کہی ، ان سے میں نے پوچھاا کہ آپ اپنے بیان کے مطابق الرسالہ برابر پڑھ رہے ہیں تو کیا آپ بز دل ہو گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ، میں تو بز دل نہیں ہوا۔ پھر میں نے پوچھ کہ آپ کے اس علاقہ میں الرسالہ پڑھنے والے سیکڑوں افراد موجود ہیں ۔ کیا آپ ان میں سے کچھ لوگوں کو جانتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، میں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو برابر الرسالہ پڑھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا آپ ان بہت سے قارئین میں سے کسی ایک شخص کا نام بتا سکتے ہیں جو الرسالہ پڑھ کر بز دل ہو گیا ہو۔ میرے اس سوال پر وہ خاموش ہو کر سوچنے لگے ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے میرے اس سوال کے بعد ان کا پور آ قلعہ دھڑام سے گر گیا ہو۔ ان کا چہرہ بتا رہا تھا کہ الرسالہ کے بارے میں وہ جس واقعہ کی خبر مجھے دے رہے تھے ، اس سے وہ خود بھی متعین طور پر باخبر نہ تھے ۔ میں نے بار بار ان سے پوچھا کہ آپ کسی ایک ایسے شخص کا نام بتائیں جو الرسالہ کو پڑھ کر بز دل ہو گیا ہو ، مگر ایسا کوئی نام بتانے سے وہ عاجز رہے ۔ انھوں نے نہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور نہ الرسالہ کے کسی بز دل قاری
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues