If you have a good excuse, don't use it.
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۹
کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنے لگے۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ایک بات بیان کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹی بات ہے تو ایسا شخص دو کاذبوں میں سے ایک ہے (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ ۳۰ - ۵۲۹)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک ایسی خبر کو بلا تحقیق پھیلانا شیطان کی پیروی کرنا ہے ، اور اگر آدمی خبر کو جھوٹ جانتے ہوئے اسے پھیلائے تو وہ خود بھی اسی کذب بیانی کا مرتکب ہو رہا ہے جس کا ارتکاب اس شخص نے کیا تھا جس نے ابتدا اً اس جھوٹ کو گھڑا تھا۔
۹ ایل کو ایوارڈ اور انعامات کی تقسیم کی تقریب جن مچ (گاندھی پارک) میں ہوئی۔ وہاں ڈائس پر مجھ سے ملی ہوئی کرسی پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سادہ لباس اور سادہ انداز سے میں سمجھ نہ سکا کہ یہ "وی آئی پی " طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مسٹر چند را ما ولی (K. Chandramouli) ہیں جو سہارن پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہیں۔ وہ مدراس کے رہنے والے ہیں اور ان کی مادری زبان تمل ہے۔ مگر وہ نہایت صاف اردو بول رہے تھے۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ یوپی کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور لمبے عرصہ تک اردو کے علاقوں میں رہے ہیں۔ جب میری تقریر پر شروع ہوئی تو وہ اپنی کرسی پر نظر نہ آئے۔ میں نے سمجھا کہ شاید وہ کسی ضرورت سے واپس چلے گئے ہیں۔ مگر بعد کو ایک صاحب نے بتایا کہ جب آپ کی تقریر کا وقت آیا تو وہ ڈائس سے اتر کر نیچے آئے اور سامنے کی کرسی پر بیٹھ گئے تاکہ تقریر کو اچھی طرح سن سکیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں ڈی ایم سے متصل کرسی پر تھا۔ انھوں نے تقریر کے بارہ میں نہایت اچھے تأثر کا اظہار کیا اور اس سے پور اتفاق کیا۔ مسٹر چند را ما ولی کو اسلامی مرکز کا انگریزی لٹریچر ڈا ک سے روانہ کر دیا گیا ہے۔ مسٹر چندر اما ولی اور دوسرے ہندو صاحبان سے بات کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ یہ حضرات اگر چہ اردو رسم خط میں لکھی ہوئی عبارت کو پڑھ نہیں سکتے مگر اردو زبان کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو الرسالہ کا پیغام پہنچانے کے لئے دو شکلیں جاری کی جانی چاہئیں ۔ ایک یہ کہ الرسالہ کے ہمدرد اس قسم کے لوگوں کو الرسالہ کے مضامین پڑھ کر سنائیں۔ دوسرا طریقہ کیسٹ کا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مرکز کے کیسٹ فراہم کئے جائیں۔ ہمارے احباب بطور خود ایسا کر سکتے ہیں کہ وہ الرسالہ کے منتخب مضامین کو کیسٹ پر ریکارڈ کر لیں اور اس کے ذریعہ ان لوگوں تک الرسالہ کا پیغام پہنچائیں جو اردو کو پڑھ نہیں سکتے۔ “
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues