If you have a good excuse, don't use it.
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
محسوس کر اس کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر بڑے پیمانے شروع ہو جائے تو وہ ان شاء اللہ ایک نئے انقلاب کے ہم معنی ہو گا۔
سہارن پور میں میری تقریر کا موضوع قومی اااایکتاا (National integration) تھا۔
میں نے اپنی تقریر میں ہالینڈ کا وہ واقعہ بیان کیا جو راستہ میں پروفیسر گوانی نے بتایا تھا۔ میں نے کہا کہ قومی یکتا قائم کرنے کا طریقہ۔ یہی رواداری ہے جس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں ملتی ہے۔ اسلام اس رواداری کو آخری حد تک قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ہالینڈ کے پروٹسٹنٹ پر پروفیسر نے کھانے کی میز پر ایک کیتھولک کو اپنی دعائیہ رسم ادا کرنے کی اجازت دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں یہاں تک گئے کہ آپ کے زمانہ میں نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا۔ روایات میں آتا ہے کہ اس دوران ان کی عبادت کا وقت آگیا تو آپ نے انھیں اجازت دے دی کہ وہ مسجد نبوی میں اپنی عبادت کر لیں۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی کے صحن میں اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کے مراسم ادا کئے (سیرۃ ابن کثیر، رابع ، صفحه ۱۰۸) عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس وقت ہندوستان کا مسئلہ نمبر ایک نیشنل انٹیگریشن ہے۔ اس سے مجھے اصولاً اتفاق ہے۔ مگر اس کے لئے جو تدبیر بتائی جاتی ہے اس کو میں اصل مقصد کے لئے بالکل بے فائدہ سمجھتا ہوں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نیشنل انٹیگریشن حاصل کرنے کے لئے ہمیں کلچرل انٹیگریشن لانا ہوگا۔ یعنی مختلف فرقوں کی تہذیبی شناخت کو ختم کر کے ایک مشترک کلچر بنا یا جائے اور سب کو اسی کلچر کا پابند کیا جائے۔ میں نے اپنی تقریر میں مختلف مثالیں دے کر بتایا کہ تہذیبی شناخت کسی بھی درجہ میں یکت اور یکجہتی میں مانع نہیں ہے۔ کسی ملک میں یکجہتی اس طرح آتی ہے کہ لوگوں کے اندر روادارانہ سوچ پیدا کی جائے۔ تہذیبی فرق کو مٹا کر یکجہتی پیدا نہیں کی جاسکتی۔
اس معاملہ میں اصل اہمیت ذہن کی ہے نہ کہ ظاہری آداب ورسوم کی۔ اور وہ ذہن یہ ہے کہ لوگوں کے اندر احترام انسانیت کا مزاج پیدا کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں فرق کی شکل کو نہیں مٹانا ہے بلکہ فرق کی سوچ کو مٹانا ہے۔ ظاہر والے فرق کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ دل والے فرق کو ختم کرنا ہے۔ ہمیں لوگوں کے اندر یہ سوچ ابھارنا ہے کہ وہ مذہب کے فرق کو اخلاق کا فرق نہ بنائیں۔ خلاصہ یہ کہ ایک کیتھولک کیتھولک رہتے ہوئے پروٹسٹنٹ کی عزت کرے ، اور اسی طرح ایک پروٹسٹنٹ ، پروٹسٹنٹ رہتے ہوئے کیتھولک کی عزت کرے۔ یہی یکتا اور یکجہتی پیدا کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا اس مقصد کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues