Hold the flight please. Passenger is coming.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴
نے بتایا کہ مثلاً ایک بریلوی مقرر کھڑا ہو کر کہہ دے گا: دیکھو قرآنی آیت "ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر" کا ترجمہ دیوبندی عالم نے اس طرح کیا ہے: "تاکہ اللہ تمہارے سب اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف کر دے"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے محبوب پیغمبر بھی گنہگار تھے۔ اور جو شخص خدا کے محبوب پیغمبر کو گنہگار بتائے وہ کیسے مسلمان ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی باتوں سے امت میں تفریق پیدا ہوتی ہے ، مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہ تضاد عجیب ہے کہ ایک طرف ہر ایک اتحاد کی بات کر رہا ہے۔ دوسری طرف ہر ایک مذکورہ نوعیت کی ایک یا دوسری بات لے کر امت کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے۔
حافظ عبد الرحمٰن (پیدائش: 1940) نے اپنی زبان میں کہا " یہ جو 1947 ہوئی، وہ اسلام کے اندر کا ووٹ بن گئی ۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی نفرت نہیں تھی۔ اس وقت مذہبی تعصب نہیں تھا۔ کوئی مسلمان فقیر / بزرگ آگیا تو ہندو مسلمان سب اس کی عزت کرتے تھے۔ حتیٰ کہ بہت سے غیر مسلم اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیتے تھے اور کوئی برا نہیں مانتا تھا۔ اس وقت لوگ سادہ تھے۔ کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ اب محاذ آرائی ہونے لگی۔ اس کی وجہ سے ماضی کے تمام امکانات برباد ہو گئے۔ اگر پہلے والے حالات جاری رہتے تو اب تک کیا سے کیا ہو گیا ہوتا۔
انھوں نے ایک شخص مسٹر گنیش ایم اے ) کا قصہ بتایا۔ ان کو اسلام سے سخت نفرت تھی۔ اسی نفرت کی وجہ سے انھوں نے اسلام پر کتابیں پڑھیں۔ وہ ابتداء نفرت کا شکار تھے۔ وہ " رنگیلا رسول" کی باتیں دہراتے تھے۔ مگر مطالعہ کے بعد ان پر اسلام کی سچائی آشکار ہو گئی۔ حافظ عبد الرحمٰن صاحب سے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا " مگر اب میں کیڑا مسلمان ہوں" ان کا نیا نام عبد الاحد ہے۔ اب وہ راجستھان میں رہتے ہیں ۔
موجودہ مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف کچھ کہے تو فوراً اس کو اسلام کا مستقل دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ بہت ہی کم ہوتے ہیں جو کسی چیز کے ابدی دشمن ہوں۔ بیشتر لوگ ناسمجھی میں کوئی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اگر ان کی ناسمجھی کو دور کر دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ جو شخص آج بظاہر دشمن نظر آتا ہے، وہ کل کے دن دوست
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues