Hold the flight please. Passenger is coming.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵
اور حامی بن جائے ۔
جموں میں ہر سال ربیع الاول کے موقع پر میلاد النبی کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ یہ جلوس روایتی شان کے ساتھ جموں شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتا ہوا جامع مسجد پہنچتا ہے۔ یہاں " اسلامی جھنڈے " کو سلامی دی جاتی ہے۔ جھنڈے کی شان میں ایک نظم پڑھی جاتی ہے۔ اس تقریب کے بعد ظہر کی نماز ہوتی ہے اور ظہر کی نماز کے فوراً بعد جلسہ شروع ہوجاتا ہے ۔
میں نے دیکھا تو جلوس میں کافی مسلمان شریک تھے ۔ ابتدا ء میں نے سمجھا کہ یہ سب جموں شہر کے مسلمان ہیں۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس میں جموں شہر کے لوگ پانچ فیصد یا دس فی صد ہوں گے۔ ورنہ زیادہ تر لوگ اطراف کے دیہاتوں سے آئے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اس قسم کے جلوسوں میں عام طور پر " شرفاء اور معززین " شریک نہیں ہوتے ۔ عوام اور جاہل قسم کے مسلمان ہی زیادہ شریک ہوتے ہیں ۔ اور یہی صورت حال ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔
جلوسوں کی اسی نوعیت کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جلوس کے بعد فساد شروع ہو جاتا ہے۔ میں ذاتی طور پر جلوس کی سیاست کا قائل نہیں ، مگر جو لوگ جلوس کے طریقہ میں یقین رکھتے ہیں ، انھیں سب سے پہلے شرفاء مسلمین کو شرکت جلوس کے لیے آمادہ کرنا چاہیے ۔ اس سے پہلے جلوس نکالنا اس مقصد کے لیے مفید نہیں ہوسکتا جس کے لیے جلوس نکالا جاتا ہے۔ جلسہ کی دو نشستیں ہوئیں ۔ ایک ظہر اور عصر کے درمیان ۔ اور دوسری نشست نماز مغرب کے بعد ۔ کئی مقررین کی تقریریں ہوئیں ۔ میں نے دن کی نشست میں مختصر طور پر سیرت کے اخلاقی پہلو پر گفت گو کی ۔ شام کی نشست میں مفصل خطاب کیا۔ اس خطاب کا موضوع سیرت کا عالمی اور آفاقی پہلو تھا۔ شام کے جلسہ کی کارروائی ٹیلی ویژن پر بھی دکھائی گئی ۔ ۶ نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ لوگوں کی فرمائش پر یہاں کی جامع مسجد میں " نماز " کے موضوع پر ایک خطاب ہوا۔ وسیع مسجد پوری کی پوری بھری ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ ان نمازیوں میں بیشتر تعداد تعلیم یافتہ حضرات کی تھی ۔ جموں شہر پوری ریاست جموں و کشمیر کا تجارتی مرکز ہے۔ مگر یہاں کی تجار توں میں مسلمانوں کا کوئی قابل ذکر حصہ ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی چند معمولی دکانیں نہیں۔ تمام بڑی بڑی تجارتیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues