Al-Risala · July 1988 · page 47

خبر نامه اسلامی مرکز - ۴۱

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷

کو اپنی بات کے طور پر شائع کرتے ہیں۔ ان پھیلانے والوں میں ہمارے مخالفین ہیں۔ الرسالہ کا پیغام الرسالہ کے ذریعہ جتنا پھیل رہا ہے، اس سے زیادہ دوسرے اس کو پھیلا رہے ہیں۔ کچھ احباب اگر براہ راست طور پر الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں تو دوسرے بہت سے وہ لوگ ہیں جو بالواسطہ طور پر الرسالہ کی ایجنسی کا کام کر رہے ہیں۔ 10۔ ایک صاحب اپنے خط مورخہ (7۱ مارچ ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں: دو تین سال سے الرساله کا قاری ہوں۔ میں نے جب اسے پہلی بار پڑھا تو دیوانہ وار کئی بار پڑھا اور اسی وقت ٹھان لیا کہ میں الرسالہ کو اپنی زندگی میں شامل کروں گا۔ اس میں ایسی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ اگر کم ہمتی اور بے دلی اور مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہوں تو عجب نہیں کہ صاحب مطالعہ تجدید زندگی کرلے۔ جس کی کشتی بھنور میں ہو اس کے لیے الرساله ناخدا سے کم نہیں۔ نوجوانوں کے لیے اس کا مطالعہ مشعل راہ ہے۔ آدمی اس کو دوبارہ پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور ہر مرتبہ اس کا اثر دو بالا ہو جاتا ہے۔ (محمد عبد المجید ، کبھینسا) ۱۱۔ ایک صاحب لکھتے ہیں: الرسالہ ہر دین سے لگاؤ رکھنے والے کی ربّانی اور روحانی ضرورت بن گیا ہے۔ اس کا ہر صفحہ قرآن و حدیث سے اخذ شدہ ہوتا ہے۔ آپ پر جو تنقید بھی کبھی نظر سے گزرتی ہے وہ صرف تنقید برائے نفسانیت ہوتی ہے یا حقیقت سے انکار کی احمقانہ جرات۔ میں آپ کے پیغمبرانہ مشن پر اپنے آپ کو لگانے پر رضا مند ہوں۔ کچھ حضرات کے نام الرساله جاری کروانے کا ارادہ ہے۔ یہاں امام صاحب الرسالہ سے پوری طرح متفق ہیں۔ ہر جمعہ کو تقریر کرتے ہیں۔ الرساله سے ان کی تقریروں میں ایک نیا رنگ پیدا ہو گیا ہے جو پہلے نہ تھا (مشتاق احمد ، شیو گنج)

۱۲۔ الرساله خدا کے فضل سے بے شمار لوگوں کے لیے نئی زندگی کا باعث بن رہا ہے۔ اس کا اندازہ بار بار مختلف شکلوں میں ہوتا ہے۔ ۱۶ مئی ۱۹۸۸ کو ایک صاحب نے ٹیلی فون پر بتایا کہ بعض اسباب کے نتیجہ میں میں سخت مایوسی کا شکار تھا۔ عین اس وقت الرسالہ اپریل ۱۹۸۸ ملا۔ اس کے صفحہ ۲ پر "چیلنج نہ کہ ظلم" کو پڑھا تو آنکھ کھل گئی اور اچانک میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر نئی طاقت آگئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1988 All issues

Printed page