Al-Risala · January 1988 · page 36

Hold the flight please. Passenger is coming.

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶

99 فی صد سے بھی زیادہ ہندو صاحبان کے قبضہ میں ہیں۔ حتی کہ سیرت النبی کے جلسہ کے لیے جوٹنٹ لگایا گیا تھا، میں نے دیکھا تو اس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا : "را ماٹنٹ اینڈ لائٹ ہاؤس" شہر میں گھومتے ہوئے میں نے دو دکانی بڑی بڑی بلڈنگیں دیکھیں ۔ یہ دونوں بلڈنگیں مسلم اوقاف کے محکمہ کی ہیں۔ یہ دونوں اہم مقامات پر ہیں اور ان میں بہت سی دکانیں بنی ہوئی ہیں۔ مگر اس خالص "مسلم جائیداد" میں بھی زیادہ تر دکانیں غیر مسلم صاحبان کی تھیں ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اوقاف والوں نے دکان کو الاٹ کرنے کے لیے " ایڈوانس " رقم کی شرط لگا رکھی تھی ۔ مسلمان اپنی اقتصادی کمزوری کی وجہ سے ایڈوانس رقم کی شرط پوری نہ کر سکے ۔ اس لیے زیادہ تر دکانیں غیر مسلم صاحبان کے قبضہ میں چلی گئیں ۔

میں نے سوچا کہ مسلم اوقاف کی بلڈنگ پر ہندو صاحبان کا قبضہ کسی تعصب کی بنا پر نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس نے غیر مسلم صاحبان کو یہ موقع دیا کہ وہ ایک مسلم جائیداد پر قابض ہو جائیں۔ اس کا جواب ایک لفظ میں "انٹرسٹ" ہے۔ یہ دنیا انٹرسٹ کا کھیل ہے۔ ہر آدمی اپنے مفاد کے تحت عمل کرتا ہے ۔ محکمہ اوقاف کو مالی فائدہ اس میں نظر آیا کہ وہ اپنی دکانیں غیر مسلم صاحبان کو دے ۔ اس لیے اس نے اپنی دکانیں غیر مسلم صاحبان کو دے دیں۔ اس کے برعکس اگر وہ دیکھتے کہ مسلمانوں کو دینے میں فائدہ ہے تو وہ اپنی دکانیں مسلمانوں کے حوالے کرتے ۔ مسلمان اگر اس ناگزیر شرط کو پورا نہ کر سکیں تو وہ یقینی طور پر ناکام رہیں گے ، خواہ وہ مسلم اقلیت کے ملک میں ہوں یا مسلم اکثریت کے ملک میں ۔ رعایت کی بنیاد پر کبھی کوئی قوم اس دنیا میں کھڑی نہیں ہو سکتی ۔ ایک صاحب ایک کتاب لائے جس کا نام " انوار الانتباہ " تھا۔ اس میں عجیب و غریب قسم کی طلسماتی باتیں درج تھیں ۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا کہ بزرگوں سے مدد مانگنا جائز ہے ۔ " امام شیخ الاسلام شہاب بریلی سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء و مرسلین اور اولیاء و صالحین سے فریاد کرتے اور یا رسول اللہ ، یا علی ، یا شیخ عبدالقادر جیلانی اور ان کے مثل کلمات کہتے ہیں ۔ یہ جائز ہے یا نہیں ، اور اولیاء بعد انتقال کے مدد فرماتے ہیں یا نہیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ بیشک انبیاء و مرسلین اور اولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی مدد فرماتے ہیں " ایک واقعہ " ان الفاظ میں درج تھا : ایک بار حضرت سیدی مدین بن احمد شمونی نے وضو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues

Printed page