Al-Risala · August 1988 · page 18

يارب لا أرجو لهم سواكا يارب فامنع منهم حماكا

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸

میں اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت کا انتظام اس طرح کیا کہ حق کے دشمنوں پر آسمان سے پتھر برسائے۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کی بعثت کے بعد اب صورتِ حال بدل چکی تھی۔ اب اہل حق کے پاس دین فطرت کی صورت میں وہ طاقت ور ہتھیار موجود ہے جس کے آگے کوئی مخالفانہ ہتھیار کارگر نہیں ہو سکتا۔ یہ دین لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر حملہ کرتا ہے ۔ وہ دشمن کو دوست کے روپ میں بدل دیتا ہے ۔ وہ انسان کو اندر سے مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ دین بلاشبہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اور جب آدمی کے پاس بڑا ہتھیار ہو تو چھوٹا ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ میں قریش سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر کے لوٹے تو قرآن میں یہ آیت اتری کہ خدا نے تم کو کھلی فتح دے دی اور تم کو نصر عزیز سے سرفراز فرمایا (الفتح)، چنانچہ اس کے صرف دو برس بعد لوگوں نے دیکھا کہ جو لوگ اسلام کے دشمن بنے ہوئے تھے، وہ اسلام کے دوست اور اس کے دست و بازو بن گئے ہیں ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے خلاف جو لوگ سرکشی کر رہے تھے، ان کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ـــــــــ بلکہ ہم حق کو باطل پر ماریں گے تو وہ اس کا سر توڑ دے گا اور دفعہ وہ جاتا رہے گا (الانبیاء ۱۸)، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ عبدالمطلب کے زمانہ میں ابرہہ کے لشکر کو پتھروں سے مار کر ہلاک کیا گیا تھا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سرکشی کرنے والوں کو خود حق کی ضرب سے مفتوح اور مغلوب کر دیا گیا ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فکری اور نظریاتی شکست ، فوجی شکست سے کہیں زیادہ سخت ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایک جاری نبوت ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی ۔ اس دوسرے دور میں حق کے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے انھیں کہہ کر پتھر مارنے کی ضرورت نہیں ۔ اہل حق کو چاہیے کہ وہ حق لے کر اٹھیں جس طرح پیغمبر اسلام حق لے کر اٹھے ۔ اور پھر تمام مخالفین حق ان کے سامنے سے بھاگتے ہوئے نظر آئیں گے : جاء الحق وَزَهَقَ الباطل إنّ الباطل كان زهوقا (حق آیا اور باطل مٹ گیا ، اور باطل تھا ہی مٹنے والا )

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page