Al-Risala · August 1988 · page 23

1. Fred Hoyle, 2. Carl Sagan

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳

ایک سفر

17 مئی ۱۹۸۸ کو رمضان کے مہینہ کی آخری تاریخ تھی اور ۲ بجے دن کا وقت۔ میں دہلی میں اپنے دفتر میں تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ حیدرآباد سے جناب احمد بختیار الدین صاحب بول رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساتھیوں کے مشورہ سے حیدر آباد کے اجتماع کے لئے ۳۔ ۴۔ ۵ جون ۱۹۸۸ کی تاریخ طے ہوئی ہے۔ میں نے اپنی ڈائری دیکھ کر ان تاریخوں سے اتفاق کیا ، اور دو ٹ کے بعد گفتگو ختم ہوگئی۔

یہ مواصلات (Communication) کا ایک معاملہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں مواصلات کی بے حد اہمیت ہوگئی ہے۔ قدیم زمانہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچانے کے لئے ہفتوں اور مہینوں لگ جاتے تھے۔ جدید مواصلاتی ذرائع کی دریافت نے اُس چیز کو ممکن بنا دیا ہے جس کو فوری انتقال خبر (Instantaneous transmission) کہا جاتا ہے۔ اور جس کے ذریعہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ لکھے یا بولے ہوئے الفاظ کو بلاتأخیر دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچایا جاسکے (10/655) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عجیب نعمت ہے۔ اس نے انسانی شخصیت کو آفاقی وسعت دیدی ہے۔ اس نعمت کا سب سے زیادہ استعمال دعوت کے لئے ہونا چاہئے تھا۔ مگر آج اس کا سب سے کم استعمال جہاں ہو رہا ہے وہ دعوت ہی ہے۔ کچھ لوگ اپنے دعوے کے مطابق جدید ذرائع کو دعوت میں استعمال کر رہے ہیں۔ مگر یہ محض غلط فہمی ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مشغول ہیں وہ من مناظرہ بازی، سیاسی جھگڑے اور دنیوی ہنگامے ہیں نہ کہ حقیقۃً دعوت الی اللہ مسلمانوں کی موجودہ سرگرمیاں دراصل ان کے قومی فخر کا اظہار ہیں۔ جب کہ دعوت الی اللہ وہ مقدس عمل ہے جو ایک طرف خوف خدا اور ندمی اور دوسری طرف شفقت انسانی کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔

دہلی سے حیدرآباد کا سفر انڈین ایرلائنس کی فلائٹ نمبر ۳۹۴ کے ذریعہ ہوا۔ ۳ جون ۱۹۸۸ کی صبح کو حیدرآباد کے ہوائی اڈہ پر اترا تو وہاں ۳۱ درجہ گرمی تھی اور تیز ہوا چل رہی تھی۔ ہوائی جہاز سے ہوائی اڈہ کی عمارت تک پیدل سفر کرنا تھا۔ میں چل رہا تھا کہ میری دو پلی ٹوپی سر سے اُڑ گئی اور وسیع پختہ میدان میں ہوا کے ساتھ تیزی سے بھاگنے لگی۔ میں چند قدم اس کی طرف بڑھا۔ مگر جس تیزی سے وہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page