The end of a living legend.
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴
مخالف سمت میں بھاگی جا رہی تھی ، میں نے محسوس کیا کہ میرے جیسے کمزور آدمی کے لئے اُس تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ ہوائی اڈہ کے اسٹاف کا ایک آدمی جو اپنے لباس سے کوئی افسر معلوم ہو رہا تھا ، اس نے یہ منظر دیکھا تو وہ اس کو پکڑنے کے لئے آگے بڑھا ، اور دوڑ کر ٹوپی کو اٹھا لایا ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا نام ۔ اس نے اپنا دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا : "گوئل پٹیل"
اس واقعہ کے بعد میں نے سوچا کہ اس دنیا میں ہر آدمی اچھا آدمی ہے ۔ وہ صرف اس وقت برا آدمی بن جاتا ہے جب کہ ہم اپنی نادانی سے اس کو چھیڑیں اور اس کی انا کو جگا دیں۔ انا کے جاگنے کے بعد اپنی قوم کا آدمی بھی اتنا ہی خونخوار ہو جاتا ہے جتنا کوئی غیر قوم کا آدمی ۔ جہاز کے اندر میں اخبار پڑھ رہا تھا ۔ آج تمام اخبار میں مسٹر راج کپور کے انتقال کی خبر تھی جن کو ہندوستان کا سب سے بڑا نمائشی انسان (Showman) کہا جاتا ہے ۔ ایک اخبار نے حسب ذیل الفاظ میں اس کی سرخی لگائی تھی :
The end of a living legend.
میں انھیں خیالات میں تھا کہ اناؤنسر نے اعلان کیا " اب سے کچھ سے بعد ہمارا جہاز حیدر آباد اترنے لگا"۔ میں نے سوچا کہ ایک کا جہاز اتر چکا ، دوسرے کا جہاز اترنے والا ہے ۔ اسی طرح تمام لوگوں کے " جہاز " خدا کی دنیا میں اتر جا ئیں گے۔ یہ لمحہ بہ حال ہر ایک پر آنے والا ہے ، کوئی اُس کو ٹال نہیں سکتا۔ تا ہم کسی کے لئے اس کا اترنا محفوظ اترنا (Safe landing) ہو گا ، اور کسی کے لئے اس کا اتر نا تباہی کا اترنا (Crash landing) ۔
حیدر آباد میں میرا قیام جناب حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں لوگ برابر آتے رہے اور ان سے دعوتی و تعمیری موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ۔ اندازہ ہوا کہ حیدر آباد میں اسلامی مرکز کے پیغام کی اشاعت کا کام کافی بڑھ رہا ہے اور دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر اس مشن سے واقف ہو چکا ہے۔ الرسالہ اکیڈمی اور دوسرے بہت سے انفرادی اشخاص الرسالہ اور اس کے مشن کو پھیلانے میں مسلسل مصروف ہیں ۔
حیدر آباد کا ذکر ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر نظام کی دولت کا ، چار مینار کا ، سالار جنگ میوزیم کا اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر میرا ذوق اس معاملہ میں بالکل مختلف ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues