The end of a living legend.
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵
حیدر آباد کے تمام معلوم واقعات میں مجھ کو سب سے زیادہ جو واقعہ پسند ہے وہ تقریباً ۸۰ سال پہلے پیش آنے والا واقعہ ہے۔ یہ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیای کے قبولِ اسلام کا واقعہ ہے۔ پچھلی صدی میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے حالاتِ زندگی میں نے پڑھے ہیں۔ مگر جس گہرے شعور کے ساتھ ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیای نے اسلام قبول کیا، اس کی مثال، میرے علم کی حد تک کسی دوسرے کے یہاں نہیں ملتی۔
اگھور ناتھ چٹو پادھیای ایک بنگالی برہمن تھے۔ انھوں نے بنگال سے آکر حیدر آباد میں رہائش اختیار کی۔ یہاں وہ نظام کالج کے پرنسپل تھے۔ سرجنی نائیدو (ص ۱۹۴۹ - ۱۸۷۹) انھیں کی بڑی صاحبزادی تھیں جنھوں نے اپنی مختلف خصوصیات کی بنا پر کافی شہرت حاصل کی ۔ بوقتِ انتقال وہ اتر پردیش کی گورنر تھیں۔
ڈاکٹر نٹشی کانت چٹو پادھیای اسی خاندان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد تھے۔ وہ مہاراجہ کالج میسور میں تاریخ کے استاد تھے۔ اس کے بعد وہ حیدر آباد کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ وہ بیک وقت کئی زبانیں جانتے تھے۔ ان کے اندر حق کی تلاش کا جذبہ ابھرا۔ انھوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا۔ فلسفہ اور مذہب کا نہایت تفصیلی مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ اسلام کی صداقت پر مطمئن ہوئے اور اسلام قبول کرکے اپنا نام محمد عزیز الدین رکھا۔ ان کی دو کتابیں برٹش میوزیم (لندن) میں موجود ہیں جن کو اسی زمانہ میں لوزاک (Luzac and Sons) نے چھاپا تھا۔ ان کتابوں کو جناب حسن الدین احمد صاحب نے دوبارہ چھپوا دیا ہے ۔ ان کے نام یہ ہیں :
1. Muhammad: The Prophet of Islam 2. Why Have I Accepted Islam یہ دونوں در اصل دو لکچر ہیں جو بالترتیب ۲۵ نومبر ۱۹۰۴ اور ۲۶ نومبر ۱۹۰۴ کو حیدر آباد میں دئے گئے ۔ ایک لکچر میں انھوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ حیدر آباد میں اسلامی دعوت کا ایک سنٹر قائم کیا جائے ( ملاحظہ ہو عظمتِ قرآن، صفحہ ۴۶ - ۱۴۵)، یہ بلاشبہ اہم ترین بات تھی جو ایک بندہ خدا کی زبان سے ادا ہوئی ۔ مگر اس تجویز پر ۸۰ سال بیت گئے اور کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ راقم الحروف نے ۱۹۸۳ میں اس مقصد کے لئے حیدر آباد میں ایک دعوتی مرکز قائم کرنا چاہا۔ اس کی عملی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues