The end of a living legend.
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶
صورتیں بھی پیدا ہوئیں ۔ مگر جلد ہی لوگوں کی بے حسی اور اخلاقی پستی نے اس قیمتی منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔
خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب حالات میں بگاڑ پیدا ہوا تو کچھ لوگوں نے حضرت علی سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ عمر فاروق کے زمانہ میں حالات درست تھے اور آپ کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے ۔ اس کے جواب میں حضرت علی نے فرمایا کہ ” عمر کے ساتھی میرے جیسے لوگ تھے ، میرے ساتھی تمہارے جیسے لوگ ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر منصوبہ سب سے پہلے قابلِ اعتماد افراد چاہتا ہے ۔ اگر قابلِ اعتماد افراد حاصل نہ ہوں تو بہتر سے بہتر منصوبہ بھی زیرِ عمل نہیں لایا جا سکتا ، حتی کہ ” خلیفہ راشد “ کی موجودگی میں بھی نہیں۔
۱۸۵۷ کی ” جنگ آزادی “ انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان تھی۔ اس جنگ میں حیدر آباد کے مسلم حکمران (نظام) نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ قومی اصطلاح میں یہ واضح طور پر ” غداری “ کا کیس تھا۔ مگر بعد کی تقریبا سو برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ” غدارِ نظام “ سے ملت کو بے شمار فائدے پہنچے۔ جب کہ ” مجاہدِ نظام “ سے ملت کو کسی بھی قسم کا کوئی مثبت فائدہ نہ پہنچ سکا۔
موجودہ زمانہ میں بیشتر اسلامی ادارے عربوں کے ” پٹرول ڈالر “ کی امداد پر چل رہے ہیں۔ تمام مشہور شخصیتوں کے پیچھے یہی پٹرول ڈالر کی طاقت ہے۔ پٹرول ڈالر کے ظہور سے پہلے یہی حیثیت نظام حیدر آباد کو حاصل تھی۔ اس زمانہ میں برصغیر کے اکثر اسلامی ادارے نظام کے مالی تعاون کی بنیاد پر چل رہے تھے۔ اسی طرح حیدر آباد کے نواب نے دوسرے بہت سے ملی مفاد والے کام کئے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔
پچھلے ڈیڑھ سو برس کی تاریخ ہنگامہ خیز مسلم تحریکوں کی تاریخ ہے۔ ان تحریکوں نے مسلمانوں کے جان و مال کو بر باد تو ضرور کیا جس کو بطور خود انھوں نے قربانی کا شاندار نام دیا ہے۔ مگر ان میں کوئی بھی قابلِ ذکر مسلم تحریک نہیں جس نے مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں کوئی مثبت فائدہ پہنچایا ہو۔ اس کا کم از کم ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ ان تحریکوں کے قائدین نے ممکن اور ناممکن کے فرق کو نہیں سمجھا۔ وہ ممکن کو چھوڑ کر ناممکن کے پیچھے دوڑتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔
اس کی ایک مثال ” ریاست حیدر آباد “ کا معاملہ ہے جو ۱۹۴۸ کے انقلاب کے دوران طوفان
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues