(Politics is the art of possible).
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷
کی طرح اٹھا اور گرد و غبار کی طرح ختم ہو گیا۔ اس کی وجہ ہمارے قائدین کی یہی غیر حقیقت پسندانہ سیاست تھی۔ انھوں نے اس راز کو نہیں جانا جس کو ایک مفکر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے :
(Politics is the art of possible).
یہاں میں سابق پاکستانی وزیر اعظم چودھری محمد علی (۵۶ - ۱۹۵۵) کا ایک اقتباس نقل کروں گا۔ اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ خود پاکستانی لیڈر کے اپنے بیان کے مطابق 40 سال پہلے حیدر آباد اور کشمیر کا مسئلہ میز پر حل ہو رہا تھا۔ مگر مسلم لیڈروں نے حقائق کو نہیں سمجھا۔ وہ بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑتے رہے ، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان میں سے ایک کو بھی نہ پکڑ سکے۔
قدیم حیدر آباد میں چھوٹی سطح پر علم کا وہی چرچا تھا جو زیادہ بڑی سطح پر قدیم بغداد میں پایا جاتا تھا۔ مفتی محمد سعید صاحب (۱۸۹۵ - ۱۸۳۱) ریاست حیدر آباد میں عدالت العالیہ کے مفتی تھے۔ ان کو کتابوں کا اس قدر شوق تھا کہ اپنی آمدنی کا چوتھائی حصہ مستقل طور پر کتابوں کے حصول میں صرف کیا کرتے تھے۔ انھوں نے مکہ، مدینہ، بغداد، دمشق، قاہرہ وغیرہ کے کتب خانوں سے نایاب علمی کتابوں کی نقلیں منگوائیں ۔ ہندوستان میں اور عالم اسلام کے بڑے بڑے شہروں میں ان کے کاتب مقرر تھے جو نایاب کتا بیں 299-300
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues