(Politics is the art of possible).
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸
نقل کر کے برابر ان کے پاس بھیجا کرتے تھے۔ یہ تمام ذخیرہ اب بھی کتب خانہ سعیدیہ کی صورت میں موجود ہے۔
اس خاندان کے ایک فرد ڈاکٹر یوسف الدین صاحب ایک بار دمشق گئے۔ پروفیسر صلاح الدین المنجد نے وہاں کا مشہور کتب خانہ ظاہریہ کا معائنہ کراتے ہوئے ان سے کہا : ہندوستان کے مسلمان جب ہمارے ملک میں آتے ہیں تو وہ یہاں کی قبروں کی زیارت کے لئے جاتے ہیں ، وہ ہماری کتابوں سے نہیں ملتے۔ دیکھئے ، اس کتب خانہ میں دس ہزار نایاب کتابیں ہیں۔ ڈاکٹر یوسف الدین نے ان سے خاص خاص نایاب کتابوں کو دکھانے کی فرمائش کی۔ پروفیسر صلاح الدین المنجد نے ابن عساکر کی تاریخ دمشق منگوائی اور کہا کہ یہ ہمارے اس کتب خانہ کی سب سے زیادہ قدیم کتاب ہے۔ مگر یہ نامکمل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے بقیہ اجزاء کہاں مل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف الدین نے کتاب کو دیکھ کر فورا کہا : " حیدر آباد کے کتب خانہ سعیدیہ میں اس نایاب کتاب کے بقیہ اجزاء موجود ہیں" (انجمن، از ڈاکٹر حسن الدین احمد، صفحہ ۱۱۵) یہ قدیم حیدر آباد کا حال تھا۔ آج حیدر آباد کے مسلمانوں کے پاس پہلے سے بھی زیادہ دولت موجود ہے مگر آج ان کی دولت کا مصرف علم نہیں۔ آج وہ اپنی دولت کو ایسی بے معنی مدوں میں ضائع کر رہے ہیں جن کا نہ علم سے کوئی تعلق ہے اور نہ عقل سے۔
حیدر آباد کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک جگہ آپ کو ایک اونچے مینار پر اقبال کے شاہین کی تصویر بنی ہوئی دکھائی دے گی۔ یہ مینار اقبال ہے۔ اقبال کی ۵۰ ویں برسی کے موقع پر اپریل ۱۹۸۸ میں اس کی نقاب کشائی چیف منسٹر مسٹر این ٹی راما راؤ نے کی۔ اس کے چاروں طرف اقبال کے تین شعر اردو ہندی، انگریزی اور تلگو زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔
اقبال کو مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستان میں اقبال کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں اختلافات کے باوجود اعتراف کا ماحول ہے۔ یہاں مسلمانوں کو مسلمان رہتے ہوئے وہ تمام مواقع حاصل ہیں جو کسی دوسرے فرقہ کو حاصل ہو سکتے ہیں۔ تا ہم مواقع کو استعمال کرنے کے لئے آدمی کو خود بھی ایک قیمت دینی پڑتی ہے۔ مسلمان اگر یہ ضروری قیمت ادا نہ کریں تو ان کے لئے نہ ہندوستان میں کوئی موقع ہے اور نہ پاکستان میں۔ حتیٰ کہ مکہ مدینہ میں بھی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues