(Politics is the art of possible).
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
انھوں نے کہا کہ اس موضوع پر اب تک جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں خاتونِ اسلام سب سے بہتر کتاب ہے۔
حیدر آباد کے قریبی مقامات سے بھی کئی لوگ آگئے تھے مثلاً راچور، ناندیڑ، میدک ، وغیرہ ۔ عبد اللہ صاحب پر بھنی نے بتایا کہ ایک صاحب نے ان سے کہا کہ "مولانا ہماری جو خرابیاں بتا رہے ہیں، وہ ہم سے کہیں۔ اس کو الرسالہ میں کیوں چھاپتے ہیں کہ مشرکین کو اس کی خبر ہو جائے "۔ عبد اللہ صاحب نے جواب دیا کہ آپ کو مشرکین کا خوف ہے ، مگر فرشتوں کا خوف نہیں۔ مشرکین تو بتانے کے بعد جانیں گے ۔ مگر ہمارے دونوں کندھوں پر جو فرشتے بیٹھے ہوئے ہیں وہ تو بتائے بغیر ہر بات جانتے ہیں اور ان کو مسلسل لکھ رہے ہیں "۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ اپنے پڑھنے والوں کے اندر کس قسم کا ذہن بنا رہا ہے۔
اس سفر میں کچھ باتیں بہت غیر معمولی ہوئیں جو اس سے پہلے کسی سفر میں پیش نہیں آئی تھیں۔ ۳ جون کو ملے پلی کی بڑی مسجد میں جمعہ سے پہلے میرا خطاب تھا۔ میں نے اپنی تقریر اس جملہ سے شروع کی کہ "نماز انسانی زندگی کا حسن ہے۔ " اور پھر آدھ گھنٹہ تک قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کرتا رہا۔
میں اپنی بات پوری کرکے بیٹھ گیا۔ اس کے بعد دوسری اذان ہوئی اور خطیب صاحب نے منبر پر کھڑے ہو کر عربی زبان میں خطبہ دینا شروع کیا۔ اچانک آواز آئی "قال الشيخ وحيد الدين " ایک سیکنڈ کے لئے میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اس کے بعد ان کا مزید خطبہ سننے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ میری اردو تقریر کا خلاصہ اپنے عربی خطبہ میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ الرسالہ کی بات کی تائید مساجد کے منبر سے بھی ہونے لگے۔
دوسرا تجربہ اس کے برعکس ۵ جون کی دوپہر کو ہوا۔ اردو گھر میں تقریر تھی۔ عنوان تھا " ایمان کی حقیقت "۔ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایمان کی حقیقت اور اس کے تقاضوں کو بیان کر رہا تھا کہ اچانک چند نوجوان اسٹیج پر آئے ۔ ان کے ہاتھ میں کاغذ پر لکھا ہوا کوئی سوال تھا۔ انھوں نے زور زور سے کہنا شروع کیا کہ پہلے اس کا جواب دو ۔ ہم اس وقت تک تقریر ہونے نہیں دیں گے جب تک
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues