سنارہ سکتا۔ یہ اپنی فطرت کے
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳
واپس آگیا تا کہ آج کی تقریر سن سکوں ۔
سنارہ سکتا۔ یہ اپنی فطرت کے
اس موضوع پر وہاں جو باتیں کہی گئیں، ان کو مزید اضافہ کے ساتھ مرتب کیا بہ۔ احب الرسالہ مہر ہے کہ انشاء اللہ اس کو رسالہ کے خصوصی نمبر کے طور پر شائع کر دیا جائے۔ ۵ جون کو " اردو گھر " میں اجتماع تھا۔ میں پہنچا تو ہال پوری طرح بھر چکا تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی ایک بزرگ چیخ کر اٹھے اور مجھ سے لپٹ کر رونے لگے۔ وہ کہہ رہے تھے " میرے پیارے تم آگئے، خدا تمھیں بہت دن تک اس کام کے لئے زندہ رکھے ۔ " اس طرح آج خدا کے فضل سے بے شمار لوگ ہیں جو الرسالہ میں سچائی کی روشنی پارہے ہیں۔
جناب سید کٹر شاہ صاحب (سابق چیئر مین لیجلیٹو کونسل نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ میں برابر الرسالہ پڑھتا ہوں اور اس سے پوری طرح متفق ہوں۔ جناب عارف الدین صاحب ( مدینہ ٹیکنیکل کالج ) نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ جناب ایم اے ستار یہاں فرنیچر کا کاروبار کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں مذہبی کتابیں بالکل نہیں پڑھتا تھا۔ مگر جب سے الرسالہ ملا ہے، میرا ذہن بدل گیا ہے۔ میں پابندی سے الرسالہ اور دوسری کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔ وغیرہ تاہم بعض لوگ ایسے بھی ملے جن کو الرسالہ سے شکایت تھی ۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ میں ہمیشہ مسلمانوں ہی کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اس میں اکابر قوم پر تنقیدیں ہوتی ہیں ۔ میں نے پہلے ان کو یہ لانے کی کوشش کی کہ الرسالہ میں جو بات کہی جاتی ہے وہ قرآن وحدیث کے حوالے سے کہی جاتی ہے۔ اس لئے آپ الرسالہ کی بات کو قرآن وحدیث کے معیار پر جانچیں نہ کہ کسی اور معیار پر ۔ جب وہ اس ڈھنگ سے سوچنے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو میں نے ان کے سامنے دوسری بات رکھی ۔
میں نے کہا کہ دنیا میں دو قسم کے حیوانات ہیں ۔ ایک گائے جس کی خوراک گھاس ہے۔ اور دوسرے درندہ جس کی خوراک گوشت ہے۔ آپ درندہ کو گھاس نہیں کھلا سکتے۔ اور اگر آپ گائے کے منھ میں گوشت ڈالیں تو وہ اس کو اگل دے گی ۔ یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ انسانوں میں مختلف قسم کے لوگ ہیں اور الرسلہ بہر حال ہر ایک کی غذا نہیں بن سکتا۔
جو لوگ ذاتی فخر میں جیتے ہوں ۔ جنھوں نے خدا کے بجائے انسانوں کو اپنا بڑا بت بنا رکھا ہو۔ جن کی روح
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues