Hold the flight please. Passenger is coming.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸
ہندو پٹاخہ چھوڑیں تو مسلمان پٹاخہ نہ چھوڑیں۔ اس کے بعد ہندو پٹاخہ بازی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ ان مواقع پر مسلمان اگر اس چیز کا مظاہرہ کرتے جس کو "اسپورٹس مین اسپرٹ" کہا جاتا ہے تو وہ ملک میں ایک مفید روایت کو رواج دینے کا کریڈٹ پاتے۔ اس کے برعکس رد عمل کا مظاہرہ کرکے وہ صرف اس چیز کا اضافہ کر رہے ہیں جس کو ہندوستان ٹائمز (۷ نومبر، ۱۹۸۷) نے میچ فسادات (Match riots) کا نام دیا ہے۔
ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ حقیقت پسندی ہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے، خواہ آپ ہندوستان میں ہوں یا کسی دوسرے ملک میں۔ میری یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ ریلائنس کپ کے میچ کے زمانہ میں وہ تمام دن گھر پر بیٹھے ہوئے کمنٹری سنتے رہتے ہیں۔ بجلی آ رہی ہے تو ٹیلی ویژن پر اور اگر بجلی نہیں ہے تو ٹرانسٹر پر۔ میں نے سوچا کہ جن لوگوں کا ذہن سطحی چیزوں میں اتنا زیادہ مشغول ہو وہ آخر کوئی گہری بات کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔
جموں میں محکمہ اوقاف نے ایک نہایت وسیع اور شاندار جامع مسجد تعمیر کی ہے۔ مولانا صدر الدین قاسمی اس مسجد کے امام ہیں۔ ان کے حالات کو قریب سے جاننے کا اتفاق ہوا۔ میرا احساس یہ ہے کہ ائمہ کی جماعت کے لیے وہ ایک نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مسجد کے امام کو عام طور پر بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ اس لیے ہر امام کے سامنے یہ مسئلہ رہتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کو کس طرح بڑھائے۔ عام طور پر ائمہ یہ کرتے ہیں کہ وہ یا تو تعویذ گنڈے کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ یا متولیوں اور بڑے لوگوں کی خوشامد اور حاضر باشی کے ذریعہ مزید فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ائمہ مسلمانوں کے اختلاف اور نزاع کو بڑھا کر اپنی اہمیت ثابت کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے کچھ فائدے حاصل کر سکیں۔ مولانا صدر الدین قاسمی نے اس قسم کی کوئی تدبیر نہیں کی۔ اس کے بجائے انھوں نے اپنے دو بھائیوں کی مدد سے تجارت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ۲۰ سالہ محنت کے نتیجہ میں آج یہاں ان کی دو کامیاب دکانیں وجود میں آچکی ہیں۔ ایک کپڑے کی اور دوسری کتابوں کی۔ ایک بھائی کپڑے کی دکان پر بیٹھتے ہیں اور دوسرے بھائی کتابوں کی دکان پر۔ تجارت کا یہ راستہ ہر امام کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اپنے حالات کے لحاظ سے ہر امام اپنے مقام پر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues