Hold the flight please. Passenger is coming.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹
کوئی تجارت شروع کر سکتا ہے اور محنت اور استقلال کے ذریعہ اس میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ عبدالمجید صاحب یہاں کی ایک مقبول شخصیت ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب تو وہ بزنس میں لگ گئے ہیں۔ مگر اس سے پہلے وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے اور مقامی الیکشن میں حصہ لے کر یہاں کے کونسلر بھی منتخب ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ جموں شہر میں مسلمانوں کی تعداد بمشکل ۵ فی صد ہوگی، پھر آپ کس طرح یہاں کے الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔
انھوں نے مسکرا کر کہا کہ میری پالیسی وہی ہے جس کا آپ رسالہ میں سبق دیتے ہیں۔ میں سب سے یکساں طور پر خوش اخلاقی کے ساتھ ملتا ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ سب کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں۔ چنانچہ الیکشن میں جس طرح مسلمانوں نے مجھے ووٹ دیا، ہندوؤں نے بھی بڑی تعداد میں مجھ کو ووٹ دیا اور میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ میرے مقابلے میں ایک ہندو امیدوار بھی تھا۔ جموں میں عبدالمجید صاحب کے لیے جو موقع تھا، وہی موقع مسلمانوں کے لیے پورے ملک میں ہے۔ بشرطیکہ وہ اس کو جانیں اور سلیقہ اور ہوش مندی کے ساتھ اس کو استعمال کر سکیں۔ عبدالمجید صاحب نے کہا کہ چلئے آپ کو شہر کی سیر کرا دیں ۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر میں وہاں پہنچا جس کو " باغ بہو " کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک پرانا قلعہ تھا۔ اس کے آس پاس کی زمین کو ترقی دے کر اس کو پر فضا تفریحی مقام بنا دیا گیا ہے۔
یہاں قلعہ کے پاس ایک صاف ستھری مسجد نظر آئی ۔ معلوم ہوا کہ اس مسجد کو غالباً تین سو سال پہلے یہاں کے ہندو راجہ نے بنوایا تھا۔ یہ ایک علامت ہے کہ قدیم زمانہ میں یہاں کوئی ہندو مسلم مسئلہ نہ تھا۔ میں نے مسجد کو اندر جا کر دیکھا ۔ اس کی از سر نو آرائش کی گئی ہے ۔ میں نے تلاش کیا کہ کہیں اس کا ابتدائی سن تعمیر لکھا ہوا ہو تو اس کو نوٹ کروں ۔ ایک بورڈ نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو اس پر " شاہی مسجد " کے ساتھ " ۱۹۷۶ء " لکھنے کا اہتمام تو ضرور کیا گیا تھا، مگر وہاں مسجد کا سن تعمیر درج نہ تھا۔ مسلمانوں میں روایتی ذوق ضرورت سے زیادہ پایا جاتا ہے، مگر تاریخی ذوق ان کے اندر بقدر ضرورت بھی نہیں۔
باغ بہو کے قریب ایک جگہ بہت بڑے پیمانے پر کھدائی اور تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ ریلوے لائن کی توسیع کی جا رہی ہے ۔ 1947 میں دہلی سے صرف پٹھان کوٹ تک ریلوے لائن
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues