Al-Risala · August 1988 · page 39

Safety first, speed next.

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹

کوبر داشت نہیں کر سکتا ۔ تاہم یہ صرف بھائی صاحب مرحوم کی مسلسل سرپرستی تھی جس کی بنا پر میں اس انتہائی مشکل اور خطرناک وادی کو پار کرنے میں کامیاب ہو سکا۔

۱۹۷۶ میں ماہنا مہ الرسالہ جاری ہوا تو اس کا تمام ضروری سرمایہ بھائی صاحب مرحوم نے فراہم کیا۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر وہ برابر میری مدد کرتے رہتے تھے۔ الرسالہ اور اسلامی مرکز کی صورت میں جو ڈھانچہ آج موجود ہے، وہ حقیقت کے اعتبار سے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ مگر ظاہری اسباب کے اعتبار سے وہ سب کا سب ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر ، بھائی صاحب مرحوم کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنی معلومات کے مطابق ، ماضی یا حال میں مجھے کوئی بھی دوسرا بھائی نہیں معلوم جس نے اپنے بھائی کی اتنی زیادہ مدد کی ہو جتنی عبد العزیز خاں صاحب نے میری کی۔ ان کی وفات ایک طرف میرے بھائی کی وفات تھی ، دوسری طرف میں نے عالم اسباب میں اپنے قیمتی سرپرست کو کھو دیا۔ اللہ تعالیٰ بھائی صاحب مرحوم پر رحمتیں نازل فرمائے ، اور میرا مددگار ہو۔ وہی ہر ایک کی مدد کرنے والا ہے۔

۷جون کی صبح کو اچانک بھائی صاحب مرحوم کے دل کی حرکت بند ہوگئی۔ تاہم بجلی کا شاک دینے سے چند منٹ بعد دل کی حرکت دوبارہ جاری ہوگئی۔ اس دور ان نلکی کے ذریعہ ان کے اندر آکسیجن پہنچایا جاتا رہا ۔ یہ حالت تقریباً 12 گھنٹے رہی ۔ اس کے بعد ۷ جون کی شام کو ساڑھے نو بجے ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ مریض کی وفات ہو چکی ہے۔ آخری ہچکی کے وقت ان کے صاحبزادہ جمیل احمد خاں انجینئر ان کے پاس موجود تھے۔

موجودہ زمانہ میں ایک نئی سائنس وجود میں آئی ہے جس کو کرائیو جینکس (Cryogenics) کہتے ہیں۔ یعنی زندگی سے تعلق رکھنے والی چیزوں کو کم ٹمپریچر پر رکھ کر انھیں محفوظ کرنا۔ اس سائنس کی ابتدا ۱۹۷۸ میں ہوئی۔ اس کے ذریعہ پودے، غذائیں، اجزائے بدن مثلاً گردہ وغیرہ کو محفوظ کرنے میں کامیابی حاصل کی جا چکی ہے۔ مگر پورے انسانی جسم کو موت کے بعد ایک لمبی مدت تک محفوظ رکھنا ابھی تک ایک ناممکن چیز سمجھا جاتا ہے :

The prolonged viable preservation of whole animals, especially man, is now considered impossible, due to the complex and varied nature of the body (EB-5/322).

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page