Al-Risala · August 1988 · page 42

Safety first, speed next.

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲

میں نے کہا کہ ہر فساد ہمیشہ جوابی غلطی سے ہوتا ہے۔ اگر ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کی جائے تو ہمیشہ کے لئے فساد کی جڑ کٹ جائے گی۔ خنزیر، بر کاٹ کر ڈالنا پہلی غلطی تھی۔ اب اگر منسٹر شکیل احمد شور و غل کرتے تو یہ دوسری غلطی ہوتی مگر انھوں نے چوں کہ دوسری غلطی نہیں کی، اس لئے فساد کی صورت پیدا ہونے کے باوجود فساد نہیں ہوا۔

اخبار کی اطلاع سے پونہ کے احباب کو میری بمبئی آمد کی خبر ہو گئی تھی۔ چنانچہ وہاں سے کچھ لوگ بمبئی آ گئے۔ ان سے ملاقات اور گفتگو رہی۔ یہ لوگ جون کی تقریر میں شریک رہے۔ بمبئی کے بعض اخباروں کے نمائندے انٹرویو لینا چاہتے تھے۔ ایک ہندی اخبار کے نمائندے کو وقت بھی دیا جا چکا تھا۔ مگر بھائی صاحب کے انتقال کی وجہ سے پروگرام کی ترتیب باقی نہ رہ سکی۔ انٹرویو اور بعض دوسرے پروگرام منسوخ کر دینے پڑے۔

بمبئی میں عام ملاقاتوں کے علاوہ تین اجتماعی خطاب ہوئے۔ دو خطاب حسین اپارٹمنٹ کی مسجد میں، اور ایک ڈاکٹر عبد الکریم نائک صاحب کی رہائش گاہ پر۔ مسجد کے دونوں خطابات کا موضوع آخرت تھا، تیسرا خطاب دعوت کے موضوع پر تھا۔ تینوں تقریروں کا ٹیپ بمبئی کے احباب کے پاس موجود ہے۔

بمبئی کے آخری خطاب میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس اعتراض کا جواب دیا گیا کہ "الرسالہ مسلمانوں کو اقدام سے روکتا ہے اور پس پائی کا سبق دیتا ہے۔ " میں نے بتایا کہ یہ ایک خود ساختہ الزام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں اور دوسروں میں جو فرق ہے وہ یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اقدام کا راستہ دکھارہے ہیں ۔ اور ہم انہیں پس پائی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اصل فرق اقدام کے میدان کے بارے میں ہے نہ کہ نفس اقدام کے بارے میں۔ دوسرے لوگ ٹکراؤ کے میدان میں اقدام کا سبق دے رہے ہیں ، اور ہم مسلمانوں کو دعوت کے میدان میں اقدام کی طرف بلاتے ہیں۔ قرآن وحدیث سے، نیز تاریخی واقعات سے اس کی وضاحت کی گئی۔

۸ جون ۱۹۸۸ کی شام کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 183 کے ذریعہ بمبئی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی ۔ بھائی صاحب مرحوم تین ہفتے سے بمبئی میں تھے۔ میرے وہاں پہنچنے کے بعد اگلے ہی دن ان کی وفات ہو گئی تو ایسا معلوم ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے دونوں تاریخیں ایک ساتھ مقرر کر دی ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page