بیماری سے اکتاکر
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴
بیماری سے اکتاکر
امریکہ کے طبی جرنل (American Journal of Medicine) میں ایک ڈاکٹر کا خط چھپا ہے ۔ ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر اپنی ایک مریضہ کی تفصیلات درج کی ہیں جو مسلسل بیماری کے نتیجہ میں زندگی سے تنگ آچکی تھی اور علاج کی تمام کوششیں اس کو دوبارہ تندرستی عطا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ آخر کار اس نے اپنی اس خاتون مریض کو، جو کہ سرطان کی بیماری میں مبتلا تھی، ہمیشہ کی نیند سلا دیا تاکہ اس کی مصیبت کا خاتمہ کیا جاسکے : He put a patient suffering from terminal cancer to sleep forever to end her misery. اس واقعہ کو مسٹر راجندر پربھو (مقیم واشنگٹن) نے اپنے ایک مضمون میں نقل کیا ہے جو ہندوستان ٹائمس (، اپریل ۱۹۸۸) میں شائع ہوا ہے، اور اس کا عنوان ہے علمی انفجار (Knowledge explosion)
انسان موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتا ہے۔ حالاں کہ موت، حدیث کے الفاظ میں، عرض اکبر کا دن ہے۔ یہ وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جب کہ انسان اپنے امتحان کی مدت پوری کرکے نتیجہ پانے کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ خالق و مالک کے سامنے بندے کی حاضری ہے۔ یہ عارضی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے ۔
بیماری بلاشبہ ایک مصیبت کا واقعہ ہے۔ لیکن اگر زندگی کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھے تو وہ ایک رحمت ہے۔ بیماری آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ اس کا آخری وقت قریب آگیا ہے۔ وہ غافل آدمی کو چوکنا کرنے والی ہے۔ وہ ایک قدرتی الارم ہے جو سوتے آدمی کو جگا دیتا ہے تاکہ وہ آنے والے دن کے لیے پیشگی طور پر تیار ہو جائے۔ بیماری ایک چیتاونی ہے، مگر نادان آدمی اس کو مصیبت سمجھنے کی بنا پر عین اسی سبق سے محروم ہو جاتا ہے جس کے لیے اس کو بیماری میں مبتلا کیا گیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues