Hold the flight please. Passenger is coming.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
تھی۔ اس کے بعد اس کو بڑھا کر جموں تک پہنچایا گیا۔ اب مزید ۴۵ میل کی توسیع کے ذریعہ اس کو ادھم پور تک لے جایا جا رہا ہے ۔ یہ پورا راستہ اونچے پہاڑوں اور گہری کھائیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ریلوے لائن کا بہت بڑا حصہ پلوں اور سرنگوں کے درمیان سے گزرے گا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد کشمیر کے علاقہ میں جس رفتار سے کام ہو رہا ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کچھ زیادہ بعید نہیں کہ ایک دن یہ ریلوے لائن دہلی سے براہ راست سری نگر تک پہنچا دی جائے گی ۔ مسئلہ صرف اس کی "قیمت" کا ہے، اور ہندوستان بہر حال اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ راستہ میں ایک "چھتری" نظر آئی۔ ایک پہاڑی پر بیٹھنے کی جگہ بنا کر اس کے اوپر خاص طرح کی چھتری بنی ہوئی تھی ۔ محکمہ سیاحت کی طرف سے اس علاقہ میں اس قسم کے بہت سے تفریحی مقامات بنائے گئے ہیں۔ اوپر چڑھ کر ہم لوگ کچھ دیر تک وہاں بیٹھے ۔ یہاں خالص ہوا تھی۔ چاروں طرف سر سبز پہاڑوں کا منظر پھیلا ہوا تھا۔ دور جموں شہر نیچا اونچا بسا ہوا دکھائی دے رہا تھا ۔ قدرت کے اس ماحول میں آدمی خدا کی تجلیات میں گم ہو جاتا ہے۔ دل نے کہا کہ زندگی کے تقاضے اگر مجبور نہ کریں تو میں خدا کی اس حسین دنیا میں کھو جاؤں اور پھر کبھی اس سے باہر نہ آؤں ۔
مگر موجودہ دنیا میں انسان سے یہ مطلوب نہیں۔ چڑیاں اگر اس سرسبز دنیا میں اڑیں تو وہ ان کے لیے زندگی کی سرگرمیوں کے ہم معنی ہے۔ لیکن انسان اگر ایسا کرے تو وہ اس کے لیے زندگی سے فرار کے ہم معنی بن جائے گا ۔
جب ہم لوگ چھتری کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت میری نظر نیچے کی سڑک پر گئی۔ سڑک کے کنارے ایک پتھر لگا ہوا تھا جس پر یہ انگریزی الفاظ لکھے ہوئے تھے : Drive with care. احتیاط کے ساتھ گاڑی چلاؤ) میں نے سوچا کہ سڑک بظاہر خاموش ہے ۔ مگر وہ کتنی بڑی حقیقت کا اعلان کر رہی ہے ۔ زندگی بھی ایک سڑک کی مانند ہے۔ یہاں ہم اکیلے نہیں چل رہے ہیں ۔ بلکہ ہماری طرح دوسرے بہت سے لوگ اس پر اپنی گاڑیاں دوڑا رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں محفوظ سفر کا واحد یقینی طریقہ یہی ہے کہ ہر آدمی چوکنارہے : ہر آدمی احتیاط کے ساتھ اپنی گاڑی چلائے ۔ (رسالہ جنوری ۱۹۸۸ء)
ہم
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues