یہ فرق کیوں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
خالی نہیں ہوسکتا۔
قرآن کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حق میں ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ وہ قیامت تک اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے۔ قرآن کے ذریعہ دنیا میں ایسا انقلاب لایا گیا جس کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لئے مذہب کی جبر کا ماحول ختم ہوگیا اور آدمی کو آزادانہ طور پر اظہار خیال کا حق حاصل ہوگیا۔ اسی طرح اس انقلاب کے نتیجہ میں علمی ترقیوں کا دروازہ کھلا جس نے دین خدا اور ندیمی کی صداقت کو خود انسانی علم کے معیار پر مبرہن اور مدلل کر دیا۔ جب یہ سب ہو جائے تو اس کے بعد دین الہی کی طاقت بے پناہ ہو جاتی ہے۔ اب خدا کا دین ایک محفوظ اور قائم شدہ دین کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے ۔ اور جب خدا کا دین محفوظ اور قائم شدہ دین کی حیثیت حاصل کرلے تو اس کی طاقت اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی اس کو زیر نہ کرسکے۔ سید احمد شہید بریلوی اس سلسلہ میں ایک مثال سید احمد شہید بریلوی اور ان کے ساتھیوں کی ہے۔ انہوں نے انیسویں صدی کے ربع ثانی میں پنجاب کے سکھ حکمراں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ اس میں انھیں مکمل شکست ہوئی۔ ۶ مئی ۱۹۳۱ کو بالا کوٹ میں سید صاحب اور ان کے اکثر ساتھیوں کو سکھ فوج نے ہلاک کر دیا۔ زبردست جانی اور مالی نقصان کے باوجود اس جنگ کا مطلق کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ البتہ یہ نقصان ہوا کہ مغل دور میں گردوگو وند سنگھ ، گرو ارجن سنگھ اور گرو تیغ بہادر سنگھ کے قتل سے سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت پیدا ہوئی تھی اس میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔ سید احمد شہید بریلوی کا اقدام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف ناقابل فہم حد تک غیر دانشمندانہ تھا۔ اس کی سلطنت تبت سے لے کر درہ خیبر تک پھیلی ہوئی تھی ۔ دونوں کی فوجی طاقت میں ناقابل عبور حد تک فرق پایا جار ہا تھا۔ سید صاحب کے پاس غیر تربیت یافتہ مریدین کی ایک بھیڑ تھی جو کہ صرف روایتی ہتھیاروں سے مسلح تھی۔ دوسری طرف مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ تھی ، بلکہ وہ زیادہ جدید ہتھیاروں سے مسلح تھی۔ حتی کہ اس کے پاس توپیں بھی موجود تھیں ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب اس واقعہ سے بے خبر تھے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نہایت مدبر حکمراں ہے۔ فرانس کے ایک سیاح وکٹر جا کو ماں (Victor Jacquemont) نے اس کو چھوٹا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues