Al-Risala · September 1988 · page 21

یہ فرق کیوں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱

نپولین (Bonaparte in miniature) لکھا ہے۔ اسی طرح دوسرے مورخوں اور سیاحوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تدبر اور حکمرانی کی صلاحیت کا غیر معمولی الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔ اس کے اسی تدبر کا نتیجہ تھا کہ اس نے فوج کی تنظیمِ جدید کی اہمیت کو محسوس کیا۔ ۱۸۲۰ء میں اس نے اپنی فوج کو یورپ کے معیار پر منظم کرنا شروع کیا۔ اس نے یورپ کے ۵۰ فوجی افسروں کو اپنی فوج کی تربیت پر مقرر کیا، ان میں اکثریت ان فوجی افسروں کی تھی جو نپولین بونا پارٹ کی فوج میں کام کر چکے تھے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ کی اس فوج نے ۱۸۳۱ء میں سرحدی قبائل کی ایک شورش کو کامیابی کے ساتھ کچل دیا جو ایک جنونی مسلمان سید احمد بریلوی، کے نعرہ جہاد کے تحت ابھری تھی :

In 1831 it successfully quelled a rising of the Frontier tribesmen roused to a holy war (Jihad) by the Muslim fanatic Sayyed Ahmad (15/507). سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے اوپر شمشیری قوت کو استعمال کیا۔ مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہے۔ نہ بر دست نقصان اور قربانی کے باوجود وہ ایک فی صد کے درجہ میں بھی کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ دوسری طرف انھیں سکھوں کو اسلام کی دعوتی طاقت مسلسل مسخّر کرتی رہی ہے۔ گرو نانک اسلام کی تعلیمات سے اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ انھوں نے توحید اور رسالت محمدی کے عقیدہ کو اپنی مذہبی کتاب (گر و گرنتھ صاحب) میں شامل کیا۔ امرتسر کے سنورن متدر کی بنیاد مسلمان بزرگ میاں میر سے رکھوائی گئی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں کچھ علماء گئے تو اس نے تخت سے اتر کر اپنی لمبی داڑھی سے ان کے جوتے صاف کئے۔ اس کے علاوہ بہت سے سکھ ہیں جنھوں نے باقاعدہ کلمہ توحید کا اقرار کر کے اسلام قبول کر لیا۔ انھیں میں سے ایک مولانا عبید اللہ سندھی (۱۹۴۴ء ۔ ۱۸۷۲ء) تھے۔ وہ سندھ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ بعد کو انھوں نے اسلامی کتا بیں پڑھیں اور اسلام سے متاثر ہو کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئے ۔ وغیرہ۔ حدیبیہ کی مثال روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے بعد کے دور میں تابعین سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو، مگر ہم لوگ واقعہ حدیبیہ کو فتح قرار دیتے تھے (عن البراء قال: تعدّون الفتح

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page