Al-Risala · September 1988 · page 30

تاریخ کا تجربہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰

نے اپنے کو توسیعی گروہ کی حیثیت دے دی۔ اور توسیعی گروہ کی حیثیت حاصل کرنے ہی کا دوسرا نام غلبہ اور کامیابی ہے۔

تاریخ کا تجربہ

اسلام دین کامل ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسلام میں اگر ایک طرف نظری طور پر تمام ضروری باتیں بتا دی گئی ہیں ، تو اسی کے ساتھ اسلام کی تاریخ میں ہر قسم کی واضح مثالیں بھی قائم کر دی گئی ہیں تاکہ لوگوں کے لئے اسلامی تعلیمات کا سمجھنا آسان ہو جائے۔ اسی سلسلہ کی ایک مثال وہ ہے جو شمشیر کی طاقت اور دعوت کی طاقت کے فرق سے تعلق رکھتی ہے۔ صلاح الدین ایوبی کی ذات اسلام کی تاریخ میں " شمشیر " کی طاقت کا نشان ہے۔ انھوں نے مغرب کی عیسائی طاقتوں کو حطین ( شمالی فلسطین ) کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی ۔ اور دو سو سالہ صلیبی جنگ کا خاتمہ کیا۔ وہ ۳ اکتوبر ، ۱۱۸۷ء کو دوبارہ یروشلم میں فاتحانہ داخل ہوئے جو ۸۸ سال سے عیسائیوں کے قبضہ میں پڑا ہوا تھا۔

صلاح الدین ایوبی کا انتقال ۴ مارچ ۱۱۹۳ء کو ہوا۔ اس جنگی ہیرو کے انتقال کے صرف ۲۵ سال بعد تاریخ دوسرا منظر پیش کرتی ہے۔ چنگیز خاں کو یہ جرأت ہوتی ہے کہ ۱۲۱۸ ء میں وہ ۲۰ ہزار وحشی قبائل کو لے کر مسلم سلطنت ( خوارزم ) پر حملہ کر دے۔ چنگیز خاں اگر چہ جلد ہی گھوڑے سے گر کر ہلاک ہو گیا۔ مگر اس کے جانشین تاتاریوں کی پیش قدمی مسلم دنیا میں بلا روک ٹوک جاری رہی۔ یہاں تک کہ انھوں نے سمر قند سے لے کر بغداد تک پوری مسلم دنیا کو تہس نہس کر ڈالا۔ تاتاریوں کا یہ غلبہ اتنا شدید اور اتنا ہمہ گیر تھا کہ مسلم دنیا میں یہ کہا جانے لگا کہ: اذا قیل لك ان التتر انهزموا فلا تصدق اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو اس کو نہ ماننا۔ تاتاریوں کے اس دہشت خیز طوفان کو کس چیز نے ختم کیا ، اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ دعوت ہے۔ پچھلے صلیبی مسئلہ سے اگر مسلم دنیا نے شمشیر کی طاقت کے ذریعہ نجات پائی تھی تو تاتاریوں کے شدید تر مسئلہ سے مسلمانوں نے دعوت کی طاقت کے ذریعہ فتح حاصل کی۔

تاتاریوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس تلوار کی طاقت باقی نہیں رہی تھی، اس لئے زیادہ تر مجبورانہ طور پر نہ کہ شعوری طور پر یہ ہوا کہ انھوں نے تاتاریوں کے درمیان دعوت کا خاموش اور پرامن

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page