Al-Risala · September 1988 · page 31

تاریخ کا تجربہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱

کام شروع کر دیا۔ تاتاریوں کے پاس اپنی کوئی طاقت ور تہذیب موجود نہ تھی ، اس لئے وہ خود بخود مسلم تہذیب سے متاثر ہونے لگے۔ اسی کے ساتھ مختلف طریقوں سے انھیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسلام کا پیغام پہنچنے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی شروع ہو گئی۔ چنگیز خاں کے جن تاتاری جانشینوں نے ۱۳ ویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اسلام کی سیاسی قوت کو تاراج کیا تھا، انھوں نے اسی صدی کے خاتمہ تک اسلام کی فکری قوت سے مفتوح ہو کر بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔

پروفیسر فلپ ہٹی کے الفاظ میں، مسلمانوں کے مذہب نے وہاں کامیابی حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے:۔

The religion of the Moslims had conquered where their arms had failed (p. 488). یہاں مزید یہ یاد رکھنا چاہئے کہ صلیبیوں کا حملہ جس پر صلاح الدین ایوبی نے فتح پائی، وہ صرف اپنے مقدس مقام (یروشلم) پر قبضہ کرنے کے لئے تھا، جب کہ تاتاری جن پر دعوت کے ذریعہ فتح حاصل ہوئی، وہ پوری مسلم دنیا کو تاراج کرنے کے لئے اٹھے تھے اور اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے تھے۔

مغل حکمران بابر اسی چنگیز خاں کی نسل سے تھا۔ وہ ۱۵۲۶ء میں دہلی میں داخل ہوا۔ یہ اسی کی نسل تھی جو ۱۸۵۷ء تک موجودہ ہندستان (بھارت) سے بہت زیادہ بڑے ملک پر اسلام کی خادم بنی رہی اسلام کے لئے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں جن کی تفصیل یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں۔ اسی زمانہ میں وہ ترکستانی قبائل اٹھے جن کو سلجوقی ترک یا ترکان غزو (Oguz Turkmen) کہا جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی زمانہ میں انھوں نے ایران اور اس کے ملحق علاقوں میں زبردست تباہی پھیلائی۔ ان سے مقابلہ کے لئے مسلمانوں کے پاس تلوار کی طاقت موجود نہ تھی۔ کیوں کہ چنگیز خاں اور اس کی نسل (تاتاری) پہلے ہی اس کو آخری حد تک توڑ چکے تھے۔

مغل تاتاریوں کی طرح ، ترکان غزو کے سلسلہ میں دعوت کی خاموش اور پر امن طاقت ہی مسلمانوں کے کام آئی۔ تاریخ اگر چہ اس کی تفصیل نہیں بتاتی کہ ترکان غزو کے قبائل پر دعوتی کام کس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page