I thought it was a tremendous job.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴
کی ۔ انھوں نے لکھا کہ مسٹر بورگن جدید اقتصادی تنظیم کے حقیقی پائینیر (True pioneer) ہیں۔ مسٹر بورگن کے علاوہ انھوں نے شکاگو یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کو بھی خط لکھا اور اس میں پر زور طور پر یہ اپیل کی کہ مسٹر بورگن کے معاملہ پر از سر نو غور کیا جائے۔ کیوں کہ مسٹر بورگن نے ممتاز طور پر ایک تحقیقی کام کیا تھا اور انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری نہ دے کر ان کے ساتھ زبردست ناانصافی ہوئی ہے۔
امریکہ میں اب آدم اسمتھ کے فکری غلبہ کا سابقہ دور ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ شسیل سنگر کی اپیل کارگر ہوئی۔ یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے معاملہ پر از سر نو غور کرنے کے بعد اقرار کیا کہ اس معاملہ میں ان سے غلطی ہوئی ہے۔ مسٹر پریٹشت (Mr. Pritchett) نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ مسٹر بورگن کا کام ایک عظیم کام تھا :
I thought it was a tremendous job.
چنانچہ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا کہ جون ۱۹۸۸ میں ایک خصوصی تقریب کی جائے اور اس میں فرینک بورگن کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے دی جائے ۔ مزید یہ کہ شکاگو یونیورسٹی نے مسٹر بورگن کے پورے خاندان کے لیے ہوائی سفر کا انتظام اپنے ذمہ لیا تا کہ مسٹر بورگن کے ساتھ ان کی بیوی، بچے اور پوتے پوتیاں بھی شکاگو آئیں اور جون کے کا نوکیکیشن میں شرکت کر سکیں (ٹائمز آف انڈیا ۲۷ اپریل ۱۹۸۸)
جو واقعہ مسٹر فرینک بورگن کے ساتھ پیش آیا ، وہی زیادہ بڑے پیمانہ پر اس دنیا میں ان افراد کے ساتھ پیش آتا ہے جو خالص حق پر قائم ہونے کی کوشش کریں اور لوگوں کے سامنے بے آمیز سچائی کو پیش کرنا چاہتے ہوں ۔ دنیا کے وہ لوگ جن کا دین ذاتی مفاد ہے ، جو مصلحتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ، وہ انھیں رد کر دیتے ہیں۔ وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ یہی پچھلے پیغمبروں کے ساتھ پیش آیا اور یہی موجودہ زمانہ کے علمبرداران حق کے ساتھ پیش آئے گا۔ مگر ناقدری اور بے اعترافی کا یہ ماحول ” ۴۵ سال “ سے زیادہ باقی رہنے والا نہیں۔ یہ صورت حالی عارضی ہے نہ کہ مستقل ۔ وہ وقت لازماً آنے والا ہے جب کہ حالات مکمل طور پر بدل جائیں ۔ جب مالک کائنات براہ راست ظاہر ہو کر یہ اعلان کرے کہ میرے جس بندے کو انسانوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues