حاکم نہیں داعی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶
مسجد کے امام نے دہرایا: ہم ہزار سال تک دنیا کے حکمراں رہے ہیں۔ اور ہم ہی ہیں جس کو دوبارہ دنیا کے سیاسی تخت پر بیٹھنا ہے ۔
بات یہیں تک نہیں رہی۔ کچھ شاعر اور خطیب قسم کے لوگوں نے مزید آگے بڑھ کر یہ اعلان کر دیا کہ _ " ہم محتسب کائنات ہیں ، ہمارا منصب ساری کائنات کا احتساب کرنا ہے " یہ نات بلا شبہ مضحکہ خیز حد تک غلط ہے۔ کیوں کہ " محتسب کائنات " اگر کوئی منصب ہے تو وہ صرف خالق و مالک کے لیے سزاوار ہے۔ یہ صرف اللہ عزوجل ہے جو اگر چاہے تو کائنات ارض و سماء کا احتساب کرے۔ اس کے سوا کسی کے پاس نہ اس کی طاقت ہے اور نہ کسی کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایسا کرسکے۔ اس بنا پر اس غیر عقلی اور غیر اسلامی نظریہ کے لیے خدا کی کتاب میں کوئی دلیل نہیں مل سکتی تھی۔ یہاں رہنماؤں کی شاعرانہ تخئیل نے کام کیا۔ چنانچہ ابلیس کی ایک خیالی مجلس شوری منعقد کی گئی اور اس کی فرضی رو داد مرتب کر کے ابلیس کی زبان سے اس " حقیقت " کا اعلان کر دیا گیا کہ : ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات یہ ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ " حقیقت " کا ماخذ خدا اور رسول کے کلام میں کہیں موجود نہیں۔ اور اگر کسی صاحب کے نزدیک موجود ہو تو وہ مجھے ایسی آیت یا حدیث لکھ کر بھیج دیں جس میں یہ " حقیقت " بیان کی گئی ہے کہ مسلمان محتسب کائنات ہیں ۔
مزید یہ کہ اس کو خود ابلیس کا کلام بھی نہیں کہا جاسکتا۔ فن روایت کے مطابق اس میں یہ نقص ہے کہ ابلیس سے راوی کی ملاقات ثابت نہیں۔ اس بنا پر دینی معاملہ میں اس کا حوالہ قطعی غیر معتبر ہے۔ ان تمام کمزوریوں کے باوجود یہ غیر ثابت شدہ کلام ابلیس اتنا پھیلا کہ بڑے بڑے بزرگ اور اکابر اس کو حقیقت واقعہ سمجھ کر دہرانے لگے۔ بلکہ مسلمانوں کے " مقام و منصب اور ان کی صحیح حیثیت " کو بتلانے کے لیے اس کا حوالہ اس طرح دیا جانے لگا گویا اس کو آخری سند کا درجہ حاصل ہو (تعمیر حیات، ۱۰ اگست ۱۹۸۸) کیسا عجیب ہوگا امت مسلمہ کا وہ اسلامی منصب جو قرآن و حدیث میں تو نہ بتایا گیا ہو، البتہ ابلیس کے مفروضہ کلام سے حیرت انگیز طور پر اس کو برآمد کر لیا جائے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان انھیں غلط رہنماؤں کے وارث ہیں۔ ان کا ذہن اپنے نام نہاد رہنماؤں کے شاعرانہ اور خطیباتہ اور انشاء پردازانہ کلام سے بندھا ہے نہ کہ حقیقت خدا اور رسول کے سچے کلام سے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues