حاکم نہیں داعی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸
چیز نے ان کے ذہن و فکر کو لغوّیت کی حد تک غیر حقیقی بنا دیا ہے جس کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ حالکار نفسیات میں جینے والی ایک قوم بن کر رہ گئے ہیں ، جب کہ صحیح بات یہ تھی کہ وہ داعیانہ نفسیات میں جینے والی قوم بنتے ۔
اب پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اس غلط اور غیر حقیقی ذہن کی اصلاح کی جائے ۔ جب تک مزاجی اصلاح کا یہ کام نہ ہو ، نہ کوئی دوسرا عملی کام صحیح طور پر کیا جا سکتا اور نہ مسلمانوں کے مستقبل کو بدلا جا سکتا ۔ کوئی شخص عام پسند نعرہ دے کر وقتی طور پر مسلمانوں کی بھیڑ جمع کر سکتا ہے ۔ مگر فکری اصلاح سے پہلے کوئی حقیقی انقلاب اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ بیج کے بغیر درخت کا وجود میں آنا ۔ بلا شبہ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک تاجر کے اندر اگر دادا گیری کا مزاج پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے اس کے اس مزاج کی اصلاح کی جائے گی ۔ کیوں کہ تجارت کا کام تاجرانہ مزاج کے ساتھ کیا جا سکتا ہے نہ کہ دادا گیری کے مزاج کے ساتھ ۔ مسلمان ، قرآن کے الفاظ میں ، مذکر نصیحت کرنے والے ہیں ۔ وہ دوسری قوموں کے اوپر مصیطر ( داروغہ ) نہیں ہیں ( ۸۸ : ۲۲ ) مسلمان اس دنیا میں حاکم نہیں ہیں بلکہ داعی ہیں ۔ وہ سلطان نہیں بلکہ سفیر ہیں ۔ وہ دنیا کے جج نہیں ہیں بلکہ دنیا کے ناصح ہیں ۔ انہیں دو لفظوں پر غور کر کے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآنی ذہن کیا ہے اور مسلم رہنماؤں کا پیدا کردہ ذہن کیا ۔
اس میں شک نہیں کہ ماضی میں مسلمانوں کو بہت سی چیزیں دی گئیں ۔ جن میں غلبہ و اقتدار بھی شامل تھا ۔ مگر وہ خدا کا عطا کردہ تھا نہ کہ مسلمانوں کا اپنا حاصل کردہ ۔ اسلامی نقطہ نظر سے ان چیزوں کی حیثیت انعام کی ہے نہ کہ نشانہ کی۔ مسلمان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کی پیغام رسانی کرے اور اس کے سوا تمام چیزوں کو اللہ کے خانہ میں ڈال دے ۔ کیوں کہ وہی جس کو چاہے جو چیز دے اور جس سے چاہے جو چیز چھین لے ۔
مسلمانوں نے جب اپنی برتر حیثیت کو کھویا ، اس وقت اگر وہ اس کے سبب پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ اپنا داعیانہ کردار کھونے کی وجہ سے ان پر یہ افتاد پڑی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنی ساری کوشش داعیانہ ذمہ داری کو ادا کرنے میں لگا دیتے اور اس طرح دوبارہ انعام خداوندی کے مستحق قرار پاتے ۔ مگر اس کے برعکس یہ ہوا کہ مسلمانوں کی نگاہیں صرف ظاہری واقعہ پر اٹک کر رہ گئیں ۔ انھیں واقعہ نظر آیا مگر سبب واقعہ انھیں دکھائی نہیں دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان قوموں کے خلاف شکایت
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues