حاکم نہیں داعی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹
اور احتجاج اور ٹکراؤ میں مشغول ہو گئے جن کو وہ غلط طور پر اپنے المیہ کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ وہ خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے انسان کی طرف متوجہ ہو گئے ـــــــــ انھیں دو لفظوں میں موجودہ دور کے مسلمانوں کے المیہ کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما ایک انتہائی خطرناک غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ وہ صرف دو اصطلاحوں میں سوچنا جانتے ہیں ــــــــ حاکم اور محکوم۔ ان دو کے علاوہ کوئی تیسری اصطلاح انھیں شعوری طور پر معلوم ہی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو اگر "حاکم" کا درجہ نہ دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں "محکوم" کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ اسی غلط فکری کا یہ نتیجہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے دینی منصب کو حاکم کی اصطلاح میں بیان نہ کرے تو وہ فوراً اس پر الزام لگانے لگتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو محکوم اور مغلوب بنا دینا چاہتا ہے۔
مگر یہ سراسر کوتاہ فہمی کی بات ہے۔ ان کے پاس صرف دو پیمانے ہیں، تیسرا زیادہ اہم پیمانہ ان کے پاس موجود ہی نہیں، اور وہ دعوت الی اللہ کا پیمانہ ہے۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ حاکم کا تقابل محکوم سے کرنے کے بجائے حاکم کا تقابل داعی سے کریں۔ یہ مشورہ یقیناً لغو ہوگا کہ مسلمان مغلوب اور محکوم بن کر زندگی گزاریں۔ مگر یہ کہنا بھی اتنا ہی بے بنیاد اور لغو ہے کہ مسلمان حاکم اقوام اور محتسبِ کا ئنات بن کر رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔
صحیح بات ان دونوں کے علاوہ ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمان داعی ہیں۔ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ کے سچے دین کی طرف لوگوں کو بلا ئیں۔ یہ ایک خالص خدائی مشن ہے۔ مسلمان اگر ایسا کریں تو آخرت میں وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں گے۔ اور اگر خدا نے چاہا تو دنیا میں بھی وہ انھیں اپنے انعام سے سرفراز فرمائے گا ، خواہ وہ سیاسی انعام ہو یا اور کوئی انعام۔
تعمیر کی طرف صفحات ۴۲ هدیه ۶ روپیه
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues