میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵
نے ظہر کی نماز ادا کی۔ میں نے سوچا کہ اس ملک میں اگر مسلمانوں نے کچھ کھویا ہے تو اس سے بہت زیادہ اب بھی ان کے لیے یہاں موجود ہے۔ مگر اس ملک میں مسلمانوں کی قیادت ماضی کے قائدین سے لے کر حال کے قائدین تک ایک ہی غلطی کر رہی ہے۔ اور وہ ہے بعض ناموافق حالات کی تعمیم (جنرلائزیشن)۔ ہماری قیادت کا حال یہ ہے کہ ۹۹ اچھی باتیں اس کو نظر نہیں آتیں۔ البتہ ایک خراب بات اس کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ نظر آ جاتی ہے۔ اور اس کے نام پر دھوم مچا کر عام مسلمانوں کا ذہن اس طرح خراب کر دیتی ہے کہ اب مسلمانوں میں شاید وہ لوگ باقی ہی نہیں رہے جو مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز پر سوچ سکیں۔
گلپاڑہ میں مفتی عبدالشکور مظاہری (پیدائش ، ۱۹۴۷ء) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۰ء میں وہ ایک جماعت کے ساتھ پٹن (گجرات) گئے ۔ یہاں مولانا محمد طاہر پٹنی مصنف مجمع بحار الانوار کے خاندان کے ایک صاحب ان کو اپنے گھر لے گئے۔ ان کے پاس مخطوطات (ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں) کا ایک بڑا ذخیرہ تھا۔ وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنا یہ ذخیرہ مختلف لوگوں کو دکھایا ، مگر کوئی شخص اس کو خریدنے پر آمادہ نہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر کتابوں کے سرورق غائب تھے اور بظاہر یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ کون سی کتاب ہے۔
مفتی عبد الشکور صاحب نے ایک کتاب اٹھائی۔ یہ کتاب چار ضخیم جلدوں میں تھی ۔ مگر کسی جلد پر بھی سرورق موجود نہ تھا۔ میں نے دیکھا تو چاروں نہایت عمدہ خط میں اس طرح یکساں انداز میں لکھی ہوئی تھیں جیسے کہ وہ ٹائپ میں چھاپی گئی ہوں ۔
مفتی عبد الشکور صاحب نے ایک جلد اٹھائی اور کھول کر اس کا ابتدائی صفحہ پڑھتا شروع کیا۔ اس میں چند سطروں کے بعد مصنف نے اپنے اس مجموعہ کتب کے بارے میں یہ الفاظ لکھے تھے :
وَسَمَّيْتُهَا فَتْحَ اللَّهِ الْمَعِينِ عَلَى شَرْحِ الْعَلَّامَةِ مُلَّا مِسْكِين وہ چوں کہ " ملا مسکین " سے واقف تھے، انھوں نے اس جملہ سے پوری بات پالی ــــــــ " كنز الدقائق کی شرح ملا مسکین ، اور ملا مسکین کی شرح فتح الله المعين " یہ کتاب اب
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues