میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶
بھی نہایت عمدہ حالت میں ہے اور اس کے مصنف سید محمد ابو السعود ہیں۔ اسی طرح انھوں نے دوسری کتابوں کے بارہ میں پتہ کر لیا اور خریدنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔ مالک نے اولاً سب کی قیمت تین ہزار روپے بتائی۔ مگر مفتی عبد الشکور صاحب کے الفاظ میں " اس وقت تین ہزار میرے لیے کالا پہاڑ کی طرح تھا " آخر کار مالک نے صرف ۳۵۰ روپے میں سارا قیمتی ذخیرہ انھیں دیدیا۔ یہ کل ۷۰ کتابیں ہیں۔ ان میں فتاویٰ تاتار خانیہ جیسی تاریخی کتابیں بھی شامل ہیں۔
کسی حقیقت کو پانے کے لیے پیشگی طور پر اس سے آشنا ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ پیشگی طور پر آشنا نہ ہوں ، وہ حقیقت کو اپنے سامنے بے نقاب دیکھیں گے مگر وہ اس کو پہچان نہ سکیں گے۔
گلپاڑہ کی ملاقاتوں میں ایک یادگار ملاقات حاجی دراب خاں (عمر 80 سال) کی تھی۔ وہ بالکل ان پڑھ ہیں۔ اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے۔ مگر ان کے اندر ایک ایسی خصوصیت ہے جو اپنی معلومات کے مطابق اب تک میں نے کسی عالم کے اندر بھی نہیں پائی، وہ ہے اختلاف کے باوجود قدر دانی۔
مولانا عبد الرحیم صاحب (بڈیڈ ضلع گورگاؤں) اس سے پہلے گلپاڑہ کے مدرسہ میں استاد تھے ۔ وہ یہاں ساڑھے تین سال تک امام اور مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ۱۹۶۹ء میں وہ یہاں سے چھوڑ کر چلے گئے۔ دیہات کے لوگوں کو اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں میں اماموں اور مدرسوں سے شکایت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ گلپاڑہ کے لوگوں کو بھی ہوئی۔ انھیں میں سے ایک حاجی دراب خاں بھی تھے ۔ ان کے الفاظ میں ان کی " اس مولوی سے لڑائی رہنے لگی " لڑائی کس بات پر ہوتی تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر ۔ مثلاً حاجی دراب خاں نے اپنا ایک درخت کٹوایا اور اس کی لکڑی مسجد کے صحن میں رکھوا دی۔ اس کی وجہ سے مسجد کا صحن تنگ ہو گیا۔ مولانا عبد الرحیم صاحب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس لکڑی کو یہاں سے ہٹاؤ ۔ مگر حاجی دراب خاں نے نہیں ہٹوایا۔ آخر مولانا عبد الرحیم صاحب نے ایک روز اپنے مدرسہ کے لڑکوں کے ذریعہ تمام لکڑی کو وہاں سے نکلوا کر باہر رکھوا دیا۔ اس پر حاجی دراب خاں کافی غصہ ہوئے۔ وغیرہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues