Al-Risala · October 1988 · page 37

میوات کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۷

یہ مسجد حاجی دراب خاں کے خاندان نے بنوائی تھی ۔ مدرسہ بھی ان ہی لوگوں نے قائم کیا تھا۔ مولا نا عبدالرحیم صاحب وہاں گو یا ان کے ایک " ملازم " تھے۔ ایسی حالت میں ان کی یہ جسارت بالکل ناقابل برداشت تھی۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے حاجی دراب کی ، اس مولوی سے لڑائی رہتی تھی ، مگر مولا نا عبدالرحیم نے بتایا کہ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہواا کہ حاجی دراب ان کے بارہ میں مخالفانہ رول ادا کریں۔

مولا نا عبدالرحیم ایک با اصول آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ صاف گو ہیں۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں سے کسی نہ کسی بات پر ان کی تکرار ہو جاتی تھی۔ مثلاً وہ یہاں مسجد کے امام بھی تھے۔ مقرر وقت پر وہ ٹھیک گھڑی کے لحاظ سے جماعت شروع کر دیتے تھے، خواہ کوئی آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار ہوتی تھی۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہو کہ کئی لوگ ان کے خلاف ہو گئے ۔ حتی کہ انھوں نے گاؤں کی اکثریت کو اپنے موافق بنالیا اور عام رائے یہ ہو گئی کہ ان کو مدرسہ سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے آدمی کو لایا جائے ۔ مگر حاجی دراب اس تحریک کے سخت مخالف ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ۔ اگر چہ اس مولوی سے میری ذاتی لڑائی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مدرسہ کے کام کے لیے وہ نہایت موزوں ہے ، اس کو ہٹانے کے بعد ایسا لائق معلم ہم کو نہیں مل سکتا۔ اس لیے انھوں نے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی عبد الرحیم صاحب کی بھر پور حمایت کی ۔ ذاتی شکایت کے باوجود اعتراف اور قدر دانی کی یہ صفت اتنی کم یاب ہے کہ کم از کم میں نے اپنے تجربہ میں اب تک کوئی دوسرا حاجی دراب نہیں دیکھا۔

" حاجی دراب خاں ، بظاہر ایک معمولی آدمی ہیں مگر میرے نزدیک وہ آنے والے عظیم میوات کی علامت ہیں ۔ وہ میوؤں کے تاریک حال میں اس کے روشن مستقبل کو بتا رہے ہیں۔ میو قوم اگر چہ اپنی جہالت اور اپنی بے شعوری کی وجہ سے ہندوستان کی ایک پچھڑی ہوئی قوم بنی ہوئی ہے ۔ مگر فطری امکانات کے اعتبار سے وہ ایک جاندار قوم ہے۔ باعتبار واقعہ اگرچہ یہ دوسروں سے پیچھے ہیں ۔ مگر باعتبار امکان آج بھی وہ دوسروں سے آگے ہیں۔ ذاتی شکایتوں کو نظر انداز کر کے کسی کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ، اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ حاجی دراب کی مثال

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page