میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸
بتاتی ہے کر یہ اعلیٰ انسانی صفت میوؤں کے انر موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میوؤں کے لیے ایک عظیم مستقبل کا امکان چھپا ہوا ہے۔
حاجی دراب خاں نے بتایا کہ انھوں نے مولانا محمد الیاس صاحب کو کئی بار دیکھا ہے اور ان کی تقریریں اور گفتگوئیں سنی ہیں۔ میں نے کہا کہ مولانا الیاس صاحب کی کوئی بات جو آپ کو یاد ہو بتائیے ۔ انھوں نے کہا کہ مولانا جب یہاں آئے تو انھوں نے میوؤں سے کہا کہ ـــــــ سلوک سے رہو ، نماز پڑھو اور جماعتوں میں جاؤ۔
میں مسجد میں تھا کہ ایک میو نے دوسرے میو سے سوال کے انداز میں کہا: کہ لیے اُجو (کرلیا وضو) میواتی زبان دراصل بگڑی ہوئی اردو کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کا حال یہی ہے۔ ہر ایک کی ایک ادبی اور تحریری زبان ہوتی ہے اور دوسری وہ ہے جس کو عوامی بولی کہا جاتا ہے ۔ اسی فرق کی وجہ سے ایک زبان جانتے ہوئے بھی آدمی اس ملک کے باشندوں کی باہمی گفتگو کو سمجھ نہیں پاتا۔ کیوں کہ غیر شخص کتابی زبان جانتا ہے اور مقامی لوگ عوامی بولی میں باہم گفتگو کرتے ہیں۔ یہ ثنویت عربی اور انگریزی جیسی زبانوں میں بھی ہے اور اردو اور ہندی جیسی زبانوں میں بھی۔
ایک نوجوان میو سے ملاقات ہوئی ۔ اس کا ایک ہاتھ کہنی کے پاس سے کٹا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ تھریشر (Thresher) میں کٹ گیا ہے۔ جب سے تھریشر د دانہ کو بھوسہ سے الگ کرنے والی مشین) کا رواج ہوا ہے ، اس طرح کے حادثے زرعی علاقوں میں بہت زیادہ پیش آرہے ہیں۔ بیل کا رواج کم ہو جانے کی وجہ سے لوگ تھر یشر کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں ، اور موجودہ تھریشر کا حال یہ ہے کہ ذرا سی غفلت سے وہ ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور پھر اس کو کچلے بغیر نہیں رہتا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اب تھریشر کی جگہ کمبائن (Combine) مشین رائج ہو گئی ہے۔ یہ دوسری مشین بہ یک وقت دو کام کرتی ہے۔ وہ فصل کاٹتے ہوئے عین اسی وقت اس کا دانہ بھی الگ کر دیتی ہے ۔
تاہم تھریشر بجائے خود کوئی مہلک چیز نہیں ، یہ ہندستانی صنعت ہے جس نے اس کو مہلک بنا دیا ہے ۔ ہندوستان میں جو تھریشر بنائے جاتے ہیں وہ ایسی وضع کے ہوتے ہیں کہ ان
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues